’محبت کی شادی، باہر بھیج دیں‘

سائرہ جتوئی اور اسماعیل سومرو
،تصویر کا کیپشنسائرہ جتوئی اور اسماعیل سومرو کی شادی نے دو قبیلوں کو آمنےسامنے لا کھڑا کیا ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

سندھ ہائی کورٹ نے غیرسرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کو ہدایت کی ہے کہ قبیلے سے بغاوت کرکے پسند سے شادی کرنے والے جوڑے سائرہ جتوئی اور اسماعیل سومرو کو بیرون ملک بھیجنے کے انتظامات کیے جائیں۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی اور جسٹس محمد کریم خان آغا پر مشتمل بینچ میں جمعہ کو ہیومن سیفٹی فاونڈیشن کی درخواست کی سماعت ہوئی۔

اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ سائرہ اور اسماعیل نے پسند سے شادی کی ہے جس کی وجہ سے ان کے رشتے داروں اور قبیلے کے لوگوں نے انہیں کارو کاری کے تحت قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے، پولیس نے ان کی زندگیاں تو بچالی ہیں مگر باوجود اس کے انہیں محفوظ رہائش گاہ اور روزگار فراہم نہیں کیا گیا ہے۔

درخواست میں جرگے کے سربراہ عابد جتوئی کے خلاف کارروائی کی بھی گذارش کی گئی ہے، جس کو گزشتہ دنوں صوبائی کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔

پولیس کے وکیل محمد اشرف قاضی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جوڑا پولیس کی طرف سے فراہم کی گئی رہائش میں باحفاظت موجود ہے مگر مستقل بنیاد پر کھانے پینے اور علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پولیس کے پاس فنڈز موجود نہیں ہیں اس لیے ان کا مستقل بندوبست کیا جائے۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اسماعیل سومرو کے والدین کو سکھر میں مکمل طور پر تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

عدالت نے وہاں موجود عورت فاؤنڈیشن کے نمائندے حسن پٹھان سے دریافت کیا کہ جوڑے کے لیے کیا انتظامات کیے گئے ہیں، حسن پٹھان کا کہنا تھا کہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ جوڑے کو تحفظ فراہم کرے مگر وہ اپنی طور پر کوشش کر رہے ہیں۔ عدالت نے ان سے معلوم کیا کہ کب تک جوڑے کو باہر بھیجنے کا انتظام ہوسکتا ہے جس پر حسن پٹھان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں کوئی وقت نہیں دیا جاسکتا جس کے بعد سماعت تئیس اپریل تک ملتوی کردی گئی۔

سائرہ نے تقریباً ایک برس قبل جتوئی قبیلے اور والدین کی رضامندی کے بغیر اپنی پسند کے نوجوان اسماعیل سومرو سے شادی کرلی تھی۔ جتوئی قبیلے نے سائرہ کو کاری قرار دیکر ان کے قتل کا فیصلہ کیا تھا، مگر پولیس کے کارروائی کی وجہ سے دونوں کی زندگی بچ گئی۔

بائیس سالہ سائرہ جتوئی اور ان کے تیس سالہ شوہر اسماعیل سومرو گزشتہ آٹھ ماہ سے کراچی پولیس لائن میں پولیس کی حفاظت میں ہیں جہاں ان کے باہر جانے اور ان سے کسی سے ملاقات پر پابندی ہے، سائرہ اور اسماعیل کا کہنا ہے کہ وہ قیدی بن کر رہ گئے ہیں۔

اسماعیل اور سائرہ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں، انہیں کوئی ملک پناہ دے۔ سائرہ کے مطابق سرداروں نے قرآن پر قسم اٹھائی ہے کہ جب تک ان کو سزا نہیں دیں گے سکون کا سانس نہیں لیں گے۔

خواتین کے امور کی صوبائی وزیر توقیر فاطمہ بھٹو یہ کہہ چکی ہیں کہ دو قبیلوں کے درمیان تصادم نہ ہو اس لیے حکومت نے دونوں کو تحفظ تو فراہم کیا ہے مگر اگر کوئی جوڑا یہ کہتا ہے کہ انہیں بیرون بھیجا جائے تو یہ ممکن نہیں ہے۔

یاد رہے کہ اس قبل شائستہ عالمانی اور بلخ شیر مہر کو حکومت تحفظ فراہم نہیں کرسکی تھی، جس وجہ سے این جی اوز کی مدد سے انہیں پناہ کے لیے بیرون ملک بھیج دیا گیا تھا، موجودہ وقت بھی متاثرین پولیس کی حفاظت میں ہیں جبکہ اس جرگے کے فیصلے میں ملوث رہنے والے عابد جتوئی صوبائی وزیر کے عہدے پر فائز ہیں۔

بقول سائرہ جتوئی کے جنہوں نے جرم کیا وہ آزاد گھوم پھر رہے ہیں مگر وہ قید کی زندگی گزار رہے ہیں۔