دیگر وزراء کی مداخلت پر استعفٰی دیا:شیری

- مصنف, احمد رضا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
سابق وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کہا ہے کہ ان کی استعفے کی بنیادی وجہ وزارت اطلاعات و نشریات میں بعض وزراء کی مداخلت تھی۔
جمعہ کو کراچی ائرپورٹ پہنچنے پر صحافیوں سے بات کرتے شیری رحمان نے کہا کہ بعض وزراء ان کی وزارت میں مداخلت کر رہے تھے تاہم انہوں نے ان وزراء کے نام ظاہر نہیں کیے۔
انہوں نے کہا کہ ’ٹی وی چینلز بند کرنا یا میڈیا پر پابندیاں لگانا کبھی ہماری پالیسی نہیں رہی اور میرا اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا پرانا وعدہ اور عزم تھا کہ ہم (میڈیا کے خلاف) اس طرح کا ایکشن نہیں لیں گے لیکن وہ وزیر جو بھی تھے وہ اپنا کام کرچکے تھے‘۔
شیری رحمان نے کہا کہ وہ چونکہ وزیر اطلاعات کی حیثیت سے میڈیا اور پارلیمینٹ کے سامنے جوابدہ تھیں اور ان کے بقول مثبت روایت بھی یہی ہے کہ اگر کہیں کوئی کوتاہی ہوئی ہو تو اسکی ذمہ داری قبول کی جائے اس لیے انہوں نے اس ’کوتاہی‘ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفٰی دیا۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ انہیں یقین ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اور حکومت بے نظیر بھٹو کے افکار سے نہیں ہٹیں گے اور میڈیا پر کوئی قدغن نہیں لگائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو کئی طرح کے سیاسی اور اقتصادی چیلنجوں کا سامنا ہے اس لیے اس وقت ملک کو مفاہمت کی سیاست کی ضرورت ہے۔ شیری کا کہنا تھا کہ ’جس طرح بے نظیر بھٹو نے شروعات کی تھی اور جیسے صدر آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ دیا تھا اور وزیر اعظم جس طرح کاوشوں میں مصروف ہیں۔ اسی طرح ہمیں ملک کو آگے لے کر جانا ہے‘۔
واضح رہے کہ شیری رحمان نے تیرہ مارچ کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کے قلمدان سے استعفٰی دیدیا تھا جس کے بعد حکومت نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور شمالی علاقہ جات کے وفاقی وزیر قمر الزمان کائرہ کو وزارت اطلاعات و نشریات کا اضافی قلمدان سونپ دیا ہے جبکہ شیری رحمن کے اس فیصلے کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت نے ان کی جگہ کراچی سے منتخب ہونے والی رکن قومی اسمبلی فوزیہ وہاب کو پارٹی کا سیکریٹری اطلاعات مقرر کیا ہے۔


















