بینظیر قتل، سماعت موخر کی جائے: ملزمان

بینظیر
،تصویر کا کیپشنبینظیر 2007 میں راولپنڈی میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوگئیں تھیں
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، راولپنڈی
  • وقت اشاعت

سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو کے قتل کے الزام میں گرفتار ہونے والے ملزمان نے عدالت میں درخواست دی ہے کہ اس مقدمے کی سماعت اُس وقت تک روک دی جائے جب تک اقوام متحدہ کی ٹیم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات مکمل نہیں کرلیتی۔

سنیچر کو بینظیر بھٹو قتل کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی اور انسداد دہشت گردی کے جج چوہدری حبیب الرحمن نے اس مقدمے کی سماعت کی۔

ملزمان محمد رفاقت اور حسنین گل کے وکیل جواد خالد نے عدالت میں درخواست دائر کی جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے بینظیر بھٹو قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ سے رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستانی حکام کو اس قتل کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دیے جانے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن حقائق کو سامنے لانے کی کوشش کرے گا اور حقائق سامنے آنے کے بعد اس مقدمے کی سماعت بہتر انداز میں ہوسکے گی۔

انہوں نے استدعا کی جب تک اقوام متحدہ کا کمیشن اس ضمن میں اپنی تحقیقات مکمل نہیں کرلیتا اُس وقت تک اس مقدمےکی سماعت روک دی جائے۔ دیگر ملزمان کے وکیلوں نے اس درخواست کی حمایت کی ہے۔

عدالت کی طرف سے بینظیر بھٹو کیس میں گرفتار ہونے والے ملزمان پر فرد جُرم عائد کردی ہے اور اُن مجسٹریٹ صاحبان پر جرح جاری ہے جنہوں نے ملزمان کے اقبالی بیان ریکارڈ کیے تھے۔ ملزمان نے عدالت میں کہا ہے کہ اُن سے یہ بیانات زبردستی لیے گئے تھے۔ ان ملزمان میں حسنین گل، محمد رفاقت، شیر زمان اور قاری عبدالرشید شامل ہیں جبکہ ایک اور ملزم اعتزاز شاہ کے کم سن ہونے کی وجہ سے اُن کی سماعت علیحدہ ہوتی ہے۔

اُدھر اڈیالہ جیل کی انتظامیہ نے ان ملزمان کو پہنائی جانے والی بیڑیاں اُتار دی ہیں۔ شیر زمان کے وکیل خرم قریشی کا کہنا ہے کہ انہوں نے تو اس ضمن میں کوئی درخواست نہیں دی تھی تاہم اُنہوں نے کہا کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بطور چیف جسٹس بحال ہونے کے بعد جیل کی انتظامیہ ڈر گئی ہوگی کہ کہیں اُنہیں اس ضمن میں سپریم کورٹ میں نہ طلب کرلیا جائے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل جیل انتظامیہ نے ان ملزمان کو قیدیوں کا لباس پہنا دیا تھاجس پرملزمان کے وکلاء نے سخت اعتراض کیا تھا جس پر عدالت نے جیل انتظامیہ کو حکم دیا تھا کہ چونکہ ان ملزمان کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے اس لیے اُنہیں عام لباس پہنایا جائے۔ عدالت نے ملزمان کے وکلاء کی طرف سے اس مقدمے کی سماعت روکنے کی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اگلی سماعت 4 اپریل تک ملتوی کردی۔

بینظیر بھٹو کیس میں 80 سے زائد گواہان ہیں جن کے بیانات قملبند ہونے کے علاوہ اُن پر جرح بھی ہونی ہے۔ بینظیر بھٹو 27 اگست سنہ دوہزار سات کو راولپنڈی میں لیاقت باغ کے باہر ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوگئیں تھیں۔