جسٹس عبد الحمید ڈوگر کا یوم آخر

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سنیچر کے روز اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ موجودہ چیف جسٹس کے مخالف وکلاء اس دن کو یوم نجات کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔
عبدالحمید ڈوگر کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ نے تین نومبر سنہ دوہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اُس وقت سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا جب چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت عدالت عظمی کے تیرہ ججوں کو برطرف کردیا گیا تھا۔ افتخار محمد چوہدری کے علاوہ جسٹس رانا بھگوان داس اور جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے سینئر جج تھے۔ رانا بھگوان داس ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے ڈیڑھ ماہ کے بعد ریٹائر ہوگئے تھے۔
جسٹس عبدالحمید ڈوگر سپریم کورٹ کے چند ایک ان ججوں میں سے ہیں جن کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر فل کورٹ ریفرنس نہیں ہوا ہے۔ جنرل مشرف کے فوجی اقتدار کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دینے والی عدالت کے سربراہ جسٹس ارشاد حسن خان کا بھی فل کورٹ ریفرنس نہیں ہوا تھا۔ جنرل مشرف کے ریفرنڈم کو جائز قرار دینے والے جسٹس شیخ ریاض احمد کا بھی فل کورٹ ریفرنس نہیں ہوا تھا۔
بحال ہونے والے ججوں میں جسٹس جاوید اقبال اور جسٹس راجہ فیاض نےکوئٹہ میں سپریم کورٹ کی رجسٹری برانچ میں جوائینگ رپورٹ دے دی تھی لیکن انہوں نے عبدالحمید ڈوگر سے ملاقات نہیں کی۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے جو بیرون ملک گئے ہوئے تھے، دو روز قبل وطن واپس آگئے تھے لیکن انہوں نے بھی جوائینگ رپورٹ نہیں دی۔ خلیل الرحمن رمدے کے فیملی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ افتخار محمدچوہدری کے بطور چیف جسٹس اپنے عہدے کا دوبارہ چارج سنبھالنے کے بعد اپنی جوائینگ رپورٹ دیں گے۔
جمعہ کے روز صدر آصف علی زرداری نے جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے اعزاز میں عشائیہ دیا جس میں صدر نے کہا کہ وہ ہمیشہ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین نومبر سنہ دوہزار سات والی عدلیہ کی بحالی کی اُنہیں بھی اُتنی خوشی ہوئی ہے جتنی پاکستانی عوام کو ہوئی ہے۔
صدر کا کہنا تھا کہ ہمیں ماضی کو بھلا کر مستقبل کی طرف دیکھنا چاہیے۔ ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہوں نے بطور چیف جسٹس جو بھی فیصلے کیے وہ ملک کے بہترین مفاد اور انصاف کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے۔ اُدھر بحال ہونے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اتوار کو اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیں گے اور وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان اتوار کے روز اُن کے گھر پر قومی پرچم لہرائیں گے۔


















