بلوچستان: ڈرونز کے خلاف قرارداد

بلوچستان اسمبلی نے سنیچر کو امریکہ کی جانب سے ڈرونز حملوں کی تجویز کے خلاف ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔ اس قرار داد میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت امریکہ کو ان حملوں سے روکے۔
یہ مشترکہ قرار داد جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے پیش کی ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس میں اراکین اسمبلی نے ڈرونز حملوں کو بلوچستان تک توسیع دینے کی تجویز کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
مولانا عبدا لواسع نے بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح عراق پر حملے کے بعد امریکہ نے کہا کہ انہیں کوئی کیمیائی ہتھیار نہیں ملے اب ایسا نہ ہو کہ بلوچستان میں بھی امریکہ کو پچھتانا پڑے۔
اسمبلی کے اجلاس میں دیگر اراکین نے بھی اپنی تقریروں میں ممکنہ ڈرونز حملوں کی مخالفت کی ہے۔
بلوچستان اسمبلی سے گزشتہ دور میں بھی کئی اہم قرار دادیں منظور کی گئی تھیں جن میں بلوچستان میں فوجی آپریشن اور چھاونیوں کے قیام کی مخالفت کی گئی تھی لیکن ان قرار دادوں پر عمدرآمد نہیں ہوا تھا۔
اس بارے میں نیشنل پارٹی کے نائب صدر ڈاکٹر اسحاق بلوچ سے پوچھا تو انہوں نے کہا اس طرح کی کارروائیاں شدت پسندی کو ہوا دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی سے پہلے اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ڈرونز حملوں کے خلاف قرار داد منظور کی گئی تھی جس پر کوئی عمدرآمد نہیں ہوا اور حملے تیز کر دیے گئے اب بلوچستان اسمبلی کی قرار داد کیا کرسکتی ہے۔
چار روز پہلے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں یہ خبر شائع ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کے امریکی صدر بارک اوباما کو سیکیوٹی کی ایجنسیوں نے یہ تجویز دی ہے کہ ڈرونز حملوں کو بلوچستان تک توسیع دی جائے۔ بلوچستان کے وزیر اعلی نے گزشتہ روز کہا تھا کہ بلوچستان میں امریکہ کو مطلوب طالبان نہیں ہیں۔


















