پاک امریکہ، جرنیلوں کے رابطے

مائیک مولن
،تصویر کا کیپشنمائیک مولن اور جنرل کیانی کی عادتیں بالکل مختلف ہیں
وقت اشاعت

پاکستان کے استحکام کے سلسلے میں اوباما انتظامیہ کی امیدوں کا دارومدار دونوں ممالک کے فوجی سربراہان کے باہمی تعلقات پر منحصر ہے۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق پاکستان کے حالیہ سیاسی بحران کے دوران پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی اور امریکہ کے جوائنٹ چیف آف سٹاف کے سربراہ مائیک مولن کے درمیان روزانہ بات چیت ہوتی رہی ہے۔

سیاسی بحران کے دوران حزب مخالف کی جانب سے صدر آصف علی زرداری کی حکومت کو غیر مستحکم کیے جانے کا خدشہ تھا۔ صدر زرداری کو پاک آرمی چیف جنرل کیانی اور امریکی حکام کے دباؤ کے تحت ججوں کو بحال کرنے کا بڑا قدم اٹھانا پڑا۔

کیانی اور زرداری
،تصویر کا کیپشنصدر زرداری نے امریکہ اور جنرل کیانی کے دباؤ کے تحت ججوں کی بحالی کا فیصلہ کیا

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بحران کے دوران جنرل کیانی ایڈمرل مولن کو یقین دہانی کرواتے رہے کہ وہ فوجی بغاوت کے متعلق نہیں سوچ رہے۔ ان امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایڈمرل مولن نے ان یقین دہانیوں پر اعتبار کیا تاہم چند اعلٰی امریکی اہلکار جنرل کیانی کی نیت اور صلاحیتوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے رہے۔

پاکستانی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنرل اشفاق کیانی نے صدر زرداری اور ان کے مخالف نواز شریف کے درمیان مذاکرات کار کا کردار ادا کرکے بحران ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

امریکہ پاکستان میں فوج کی حکمرانی نہیں دیکھنا چاہتا کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں فوج کی توجہ عسکریت پسندوں سے ہٹ جائے گی اور امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان عسکریت پسندوں کے خلاف مزید سخت کارروائی کرے۔ دوسری جانب پاکستان امریکہ کی جانب سے ملنے والی مالی اور فوجی امداد کی راہ میں رکاوٹ نہیں چاہتا۔ اور ان تمام باتوں کا انحصار پینٹاگون کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے پر منحصر ہے۔

اوباما
،تصویر کا کیپشنامریکہ پاکستان میں فوج کی حکمرانی نہیں دیکھنا چاہتا

دنیا صدر آصف زرداری کو ایسے حکمراں کے طور پر دیکھ رہی ہے جو عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کا عہد رکھتا ہے تاہم ان کی حکومت نازک ہے اور عدم استحکام کا شکار ہوسکتی ہے۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق پینٹاگون کے چند اہلکاروں نے دعوٰی کیا ہے کہ زرداری حکومت اگلے چند ماہ میں گرجائے گی۔ تاہم غیر فوجی امریکی اہلکاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ حکومت مستحکم ہے۔

ایک اعلٰی امریکی فوجی اہلکار کا خیال ہے کہ جنرل کیانی زرداری حکومت کے ’اچھے ساتھی‘ ثابت ہوں گے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنرل کیانی پر امریکہ کا انحصار ’خطرناک‘ ہے۔

بش کے دور میں جنرل مشرف کے ساتھ امریکی حکام کے تعلقات اتنے ہی اچھے تھے اور انہیں 10 ارب ڈالر کی امداد بھی دی گئی تھی۔ تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ آخر میں مشرف نے شدت پسندوں کے خلاف ’بڑا کریک ڈاؤن‘ کرنے سے انکار کرکے امریکی حکام کو مایوس کیا ہے۔

رینڈ گروپ کے ایک سینیئر سیاسی تجزیہ کار کرسٹین فیئر کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات ماضی کو دہرا رہے ہیں۔ ’ہم پاکستان کے ہر آرمی چیف کے ساتھ گرمجوشی سے تعلقات قائم کرتے ہیں اور آخر میں یہ سربراہان ہمیں بری طرح مایوس کرتے ہیں‘۔

دوسری جانب پاکستان اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے خدشات بے بنیاد ہیں۔

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’جنرل کیانی ملکی نظام کو کارآمد دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ جمہوریت پسند ہیں‘۔

زرداری، گیلانی
،تصویر کا کیپشنچند پینٹاگون اہلکاروں کا دعوٰی ہے کہ زرداری حکومت چند ماہ میں گر جائے گی

گزشتہ برس ستمبر میں جنرل کیانی پاکستانی انٹیلی جینس کے نئے سربراہ مقرر ہوئے تھے۔ پینٹاگون کے ایک اعلٰی اہلکار نے ایک بیان میں جنرل کیانی کی تعریف کی کہ انہوں نے باجوڑ میں تعینات فوج کو بھارت کے ساتھ کشیدہ سرحد پر تعینات کرکے کے بجائے باجوڑ میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا۔

عادات میں جنرل کیانی اور ایڈمرل مولن بالکل مختلف ہیں۔ جنرل کیانی چین سموکر ہیں جبکہ ایڈمرل مولن صبح پانچ بجے سے بھی پہلے اٹھ جاتے ہیں اور پینٹاگون پہنچنے سے قبل باقاعدگی سے ایکسر سائز کرتے ہیں۔ جنرل کیانی کا تعلق خفیہ اداروں سے رہا ہے جبکہ ایڈمرل میولن صرف فوج میں ہی رہے ہیں۔ تاہم 2007 میں اپنے اپنے ملک کے فوجی سربراہان بننے کے بعد سے دونوں کے درمیان مضبوط تعلقات قائم ہیں۔