جسٹس افتخار کی واپسی

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری
،تصویر کا کیپشنچیف جسٹس چوبیس مارچ کو باقاعدہ طور پر اپنا عہدہ سنبھالیں گے
    • مصنف, ذیشان ظفر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

ایک مختصر تقریب میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چودھری کی رہائش گاہ کے باہر وکلاء کی جانب سے سپریم کورٹ کا اور سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی طرف سے پاکستان کا قومی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔

اتوار کو وکلاء کی جانب سے چیف جسٹس افتخار چودھری کے اپنے عہدے پر بحال ہونے کی خوشی میں ان کی سرکاری رہائش گاہ کے قریب ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وکیل رہنما ، مسلم لیگ ن کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکن ، رہنما، سول سوسائٹی کے اراکین اور لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے شرکت کی۔

یاد رہے کہ تقریب کو غیر سیاسی بنانے کے سیاسی جماعتوں کے جھنڈوں اور نعرے لگانے کی پابندی تھی تاہم پیپلز پارٹی کے کارکن مسلسل پارٹی کی مرحومہ چیرپرسن بینظر بھٹو کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے۔ جبکہ تقریب میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں اور رہنماؤں نے سپریم کورٹ میں میاں نواز شریف کی انتخابی نااہلی کا کیس شروع ہونے کی وجہ سے شرکت نہیں کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس کے بحال ہونے اور اپنے عہدے کا منصب سنبھالنے کے حوالے سے آج چیف جسٹس کے گھر کے باہر دو جھنڈے لہرائے جائیں گے جس میں سے ایک سپریم کورٹ کا اور دوسرا پاکستان کا قومی پرچم ہو گا جبکہ چیف جسٹس کی خواہش پر قومی پرچم پیپلز پارٹی کی جانب سے لہرایا جائے گا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے قومی پرچم پیپلز پارٹی کے رہنما اور عدلیہ تحریک کے دوران ایک بم دھماکے میں معذور ہونے والے ڈاکٹر اصرار شاہ جبکہ وکلاء کی جانب سے تحریک کے دوران ہلاک ہونے والے وکیل امداد اعوان کے بیٹے سپریم کورٹ کا پرچم لہرائیں گے جبکہ سول سوسائٹی کی نمائندگی طاہرہ عبداللہ کریں گی۔

انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے گھر کے عین سامنے ہونے والی پرچم کشائی کی تقریب میں صرف منتخب لوگوں کو شرکت کرنے کی جازت ہو گی تو اس پر تقریب میں شامل وکلا، سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور دیگر افراد نے احتجاج کیا۔

تام جب پولیس نے منتخب کردہ وکلا، سول سوسائٹی ، سیاسی رہمناؤں اور میڈیا کو چیف جسٹس کے گھر کے سامنے جانے کے لیے راستہ دیا تو اس موقع پر تقریب میں شامل دیگر وکلا اور سیاسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد دھکم پیل کرتے ہوئے زبردستی پرچم کشائی کی جگہ پہنچ گئے جس کی وجہ سے وہاں شدید بد نظمی دیکھنے میں آئی۔

اس پر اعتزاز احسن نے احتجاجاً پرچم کشائی کی تقریب منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا تاہم بعد میں وکلاء کے منانے پر وہ دوبارہ آئے تو تقریب تقریباً پندرہ منٹ کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی لیکن اس دوران مسلسل دھکم پیل اور شور شرابا جبکہ ، وکلا اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی جانب سے نعرے بازی جاری رہی۔

پرچم کشائی کی تقریب میں پیپلز پارٹی کی رہنما ناہید خان اور صفدر عباسی بھی شامل تھے۔ ناہید خان نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ بینظر بھٹو مرحومہ نے قوم سے چیف جسٹس افتخار چودھری کے گھر پر قومی پرچم لہرانے کا جو وعدہ کیا تھا وہ آج ان کی پارٹی کے کارکنوں نے پورا کر دیا ہے۔

پرچم کشائی سے قبل اعتزاز احسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج معزول ججوں کی بحالی کے لیے شروع کی جانے والی وکلاء تحریک کی آخری تقریب ہے جس میں کوئی تقریر نہیں ہو گی ۔

انھوں نے معزول ججوں کی بحالی کی تحریک میں حصہ لینے والے تمام افراد، سیاسی جماعتوں اور خاص طور پر مسلم لیگ ن کے سربراہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف نے اپنی انتخابی نا اہلی کا مقدمہ جلد ہی سپریم کورٹ میں شروع ہونے کی وجہ سے تقریب میں شرکت معذرت کی ہے۔ ۔ تقریب میں موجود سیاسی کارکنوں ، وکلاء اور سول سوسائٹی کے اراکین نے چیف جسٹس کی بحالی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے آزاد عدلیہ کا جو خواب دیکھا تھا وہ آج پورا ہو گیا ہے۔

لاپتہ افراد کے لیے کام کرنے والی تنظم ڈیفینس آف ہیومن رائٹس کی سربراہ آمنہ مسعود جنوعہ نے بتایا کہ انھیں یقین ہے کہ لاپتہ افراد کو بازیاب کروانے کے لیے چیف جسٹس افتخار چودھری اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے۔

تقریب کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور شرکاء کو تلاشی کے مراحل سے گزار کر تقریب میں جانے کی اجازت دی جاتی تھی۔