’میثاقِ جمہوریت پرچلنے کا عزم‘

- مصنف, عباد الحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
پاکستان میں ججوں کی بحالی کے بعد وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اتوار کو حزب مخالف کی ایک بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف سے ملاقات کی اور دونوں ہنماؤں نے مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو نواز شریف نے ظہرانے پر مدعو کیا تھا۔ یوسف رضا گیلانی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاہور سے رائے ونڈ پہنچے تو نوازشریف، شہباز شریف، چودھری نثار علی خان، اسحق ڈار اور خواجہ آصف نے ان کا استقبال کیا۔
نواز شریف سے وزیراعظم کی ملاقات تقریباً تین گھنٹے تک رہی جس کے دوران پنجاب میں گورنر راج کے خاتمے، شریف براردان کی نااہلی کے عدالتی فیصلے اور میثاق جمہوریت سمیت دیگر سیاسی امور پر بات چیت کی۔ ملاقات میں شہباز شریف سمیت مسلم لیگ نون کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
ملاقات کے بعد یوسف رضا گیلانی نے نواز شریف کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کی اور بتایا کہ وہ نواز شریف کے لیے صدر آصف زرداری کی طرف سے خیرسگالی کا پیغام لے کر آئے تھے۔ بقول ان کے مفاہمت ملکی حالات کا تقاضا بھی ہے اور عوام بھی یہی چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں وہ ختم ہوں اور میثاق جمہوریت کو بیناد بنا کر آگے کی طرف چلنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قومی ایجنڈے پر اکھٹے ہوکر چلیں۔ وزیراعظم کے بقول وہ مفاہمت کا جو پیغام لے کر آئے ہیں اس کا نواز شریف نے مثبت جواب دیا ہے۔ یوسف رضا گیلانی کے بقول مفاہمت کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ شریف برادران کی نااہلیت کے معاملے پر عدالتی فیصلہ کب آئے گا اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے تاہم یہ کوشش ہوگی کہ میثاق جمہوریت پر بہت جلد عمل درآمد ہو۔
نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ وزیر اعظم صدر زرداری کا جو پیغام لائیں ہیں وہ خوش آئند ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کا صدر زرداری کے ساتھ کوئی ذاتی جھگڑا نہیں بلکہ اصولی اختلاف تھا اور ججوں کی بحالی کے بعد ایک بڑا اختلاف ختم ہوگیا ہے جبکہ مثیاق جمہوریت پر عمل درآمد کے بعد سب اختلافات ختم ہوجائیں گے۔
انہوں کا کہنا ہے کہ میثاق جمہوریت پر عمل ہوتا ہے، سترہویں ترمیم ختم ہوتی اور آئین اپنی اصل شکل میں واپس آتا ہے تو عدم استحکام کی طرف جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نواز شریف نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی ان کے وزیر اعظم اور آصف زرداری ان کے صدر ہیں۔ ایک سوال پرانہوں نے بتایا کہ ملاقات میں مسلم لیگ نون کے وفاقی کابینہ میں شمولیت کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی۔
وزیر اعظم نے ایک سوال پر کہا کہ وہ گورنر راج کے سخت خلاف ہیں لیکن یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور اس پر وہ تبصرہ نہیں کرسکتے تاہم عدالت جو بھی فیصلہ دے گی وہ قابل قبول ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ پنجاب میں جلد گورنر راج ختم ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں جس جماعت کو اکثریت حاصل ہوگی وہ حکومت بنائی گئی۔
ایک اور سوال پر نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ نون کی ایسی کوئی پالیسی نہیں ہے کہ گورنر ہاؤس کی طرف سے لانگ مارچ کیا جائے۔






















