’جاندار حزب اختلاف‘

چودھری شجاعت حسین نے کہاکہ تینوں صوبوں کو نظر انداز کرکے پوری توجہ صرف ایک صوبے پر مرکوز ہو کر رہ گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنچودھری شجاعت حسین نے کہاکہ تینوں صوبوں کو نظر انداز کرکے پوری توجہ صرف ایک صوبے پر مرکوز ہو کر رہ گئی ہے۔
    • مصنف, عبادالحق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

مسلم لیگ قاف کے صدر اور سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ ان کی جماعت پنجاب میں غیرجانبدار رہی گی اور ایک جاندار اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے یہ اعلان مسلم لیگ قاف کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پارٹی کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید اور صوبائی صدر چودھری پرویز الہیْ بھی موجود تھے۔

شجاعت حسین نے افسوس ظاہر کیا کہ عوام کو درپیش مسائل حل کرنے کے بجائے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون اقتدار کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تین صوبوں کو نظرانداز کرکے سب توجہ صوبہ میں دی جارہی ہے کہ صوبے میں کون حکومت بنائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون میں صلح ہوجاتی ہے تو ان کی جماعت اپوزیشن میں بیٹھے گی۔

پریس کانفرنس میں سابق وزیر اعلی چودھری پرویز الہی نے بتایا کہ فاروڈ بلاک کے اراکین کو شوکاز نوٹس جاری کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے فاروڈ بلاک کے ارکان کو خبردار کیا کہ ان کے خلاف کارووائی شروع کی جارہی ہے اس لیے وہ اس کارروائی کے شروع ہونے سے پہلے واپس آجائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو ارکان واپس آجائیں گے ان کو پارٹی میں خوش آمدید کہا جائے گا۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ ایک طرف تو مثیاق جمہوریت کی بات کی جاتی ہے اور دوسری ’فاروڈ بلاک‘ کے ارکان سے رابطے کیے جاتے ہیں جو جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔

پرویزالہیْ نے کہا کہ مسلم لیگ قاف کو اقتداد کا لالچ نہیں ہے اور حزب مخالف کی جماعت کے طور کام کرے گی۔

مشاہد حسین سید نے بتایاکہ مجلس عاملہ کے اجلاس کی کارروائی تین گھنٹوں تک جاری رہی جس میں مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ان کے بقول ان کی جماعت میں ’ون مین شو‘ نہیں ہے اور اجلاس میں شامل تمام افراد کو اظہار خیال کا موقع دیا جاتا ہے۔

ان کے بقول ایک قرار داد کے ذریعے جسٹس افتخار محمد چودھری کی چیف جسٹس کے عہدے پر بحالی پر انہیں مبارک باد دی گئی ہے اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ ملک میں قانون کی بالادستی ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ جسٹس افتخار کے گھر پر قومی پرچم لہرانا ایک نیک شگوان ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں بلوچستان میں ڈرون حملوں کی دھمکی کے خلاف مذمتی قرار داد منظور کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بلوچستان میں ڈورن حملے کیے گئے تو ان حملوں کو پاکستانی قوم کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

مشاہدحسن نے بتایا کہ ایک قرار داد کے ذریعے ہارس ٹریڈنگ کی مذمت کی گئی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوریت کی یہ بنیاد ہے کہ تمام جماعتوں کے مینڈیٹ کا احترام کیا اور بقول ان کے انہوں نے تمام جماعتوں کے مینڈیٹ کا احترام کیا لیکن ان کی جماعت کے مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا گیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ صدارتی انتخاب کے موقع پر حکومت نے خود ہارس ٹریڈنگ کا آغاز کیا تھا۔انہوں نے ہارس ٹریڈنگ سے جمہوریت کی گاڑی آگے نہیں بڑھے گی اس لیے اس کا خاتمہ کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ لوڈشیڈنگ ، امن وامن کی صورت حال اور بے روزگاری کے خلاف بھی ایک قرار داد منظور کی گئی ہے۔ انہوں کا کہنا تھا کہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہرصوبے میں ہوگا اور اسی فیصلے کے تحت آئندہ اجلاس صوبہ سندھ میں ہوگا۔

ادھر گورنر پنجاب سلمان تاثیر اتوار کو جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ گئے جہاں انہوں نے جماعت کے امیر قاضی حسین سے ملاقات کی ۔