جالب کے لیے نشانِ امتیاز

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان کے مشہور انقلابی شاعر حبیب جالب کو حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے صلے میں ملک کے سب اعلیٰ شہری اعزاز ’نشان امتیاز‘ سے نوازا ہے۔
حبیب جالب انیس سو ترانوے میں خالق حقیقی سے جا ملے تھے اور یہ ایوارڈ انہیں ان کی وفات کے سولہ برس بعد دیا گیا ہے۔ کسی ادبی شخصیت کو یہ ایواڈ پہلی مرتبہ دیا گیا ہے۔
اپنی سیاسی زندگی کا زیادہ وقت اپنے اشعار و افکار کی وجہ سے قید میں گزارنے والے حبیب جالب کی بیٹی طاہرہ جالب نے ایواڈ ایوان صدر اسلام آباد میں ایک تقریب میں وصول کیا۔ اس تقریب سے قبل بی بی سی سی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز حاصل کرنے پر ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔
یہ اعزاز حبیب جالب کو ان کے اکیاسیویں یوم پیدائش سے ایک دن قبل دیا گیا ہے۔ طاہرہ حبیب نے بتایا کہ ان کی والدہ نے انیس سو ترانوے میں والد کی وفات کے بعد حکومت سے مالی امداد لینے سے انکار کر دیا تھا تاہم یہ ایوارڈ حکومت پاکستان عوام کی جانب سے دے رہی ہے۔ ’حبیب صاحب نے تو کام ہی پاکستانی عوام کے لیے کیا تھا۔ یہ تو ان کی خدمات کا اعتراف ہے‘۔
ان سے دریافت کیا گیا کہ آیا وہ سمجھتی ہیں کہ اس اعزاز سے ان کی شاعری کو مزید فروغ ملے گا تو طاہرہ کا جواب تھا: ’ان کا کام کسی اعزاز کا محتاج نہیں۔ ان کا کام خود اپنے منہ بولتا ہے۔ جو وقت کی آواز ہے وہ ان کا کلام ہے‘۔
اپنی سیاسی زندگی کا آغاز حبیب جالب نے کمیونسٹ پارٹی سے کیا لیکن بعد میں نیپ کے پرچم تلے آکھڑے ہوئے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ یا قید خانوں یا پھر سڑکوں پر گزارا۔
نشان امتیاز شہریوں کے علاوہ فوجیوں کو بھی دیا جاتا ہے۔ ماضی میں فلاحی سرگرمیوں میں مصروف عبدالستار ایدھی، جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر، بھارتی فلمسٹار دلیپ کمار، سفارت کار آغا شاہی اور سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی ایسے ایوارڈ دیے جا چکے ہیں۔ تاہم سویلین ’نشان امتیاز‘ شریف الدین پیرزادہ اور اس ایوارڈ کا ایک نعم البدل جنرل پرویز مشرف کو بھی دیا گیا ہے۔
حبیب جالب کی شاعری نہ صرف سیاسی کارکنوں بلکہ اہم سیاستدانوں میں بھی کافی مقبول تھی۔ گزشتہ دنوں پنجاب کے سابق وزیر اعلی شہباز شریف بھی اپنے عوامی جلسوں میں ان کی نظمیں ترنم سے پڑھ کر سناتے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
معروف شاعر قتیل شفائی نے حبیب جالب کی یاد میں چند شعر کچھ یوں لکھے تھے۔
اپنے سارے درد بھلا کر اوروں کے دکھ سہتا تھا ہم جب غزلیں کہتے تھے وہ اکثر جیل میں رہتا تھا آخر کار چلا ہی گیا وہ روٹھ کر ہم فرزانوں سے وہ دیوانہ جس کو زمانہ جالب جالب کہتا تھا






















