پارلیمینٹ کا مشترکہ اجلاس طلب

- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
- وقت اشاعت
قومی اسمبلی اور سینٹ کا ایک روزہ مشترکہ اجلاس اٹھائیس مارچ کو طلب کیا گیا ہے جس سے صدر آصف زرداری خطاب کرتے ہوئے کچھ اہم اعلانات کریں گے۔
سوموار کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر بابر اعوان نے کہا کہ رواں ماہ سترہ مارچ کو پارلیمانی سال ختم ہو گیا ہے اور آئینی تقاضے کے مطابق پارلیمان کے نئے سال سے قبل صدر کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے لازمی خطاب کرنا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ایوان صدر میں ایک مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے صدر کو مشورہ دیا کہ پارلیمانی سال شروع ہونے سے پہلے وہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں ۔
بابراعوان نے کہا کہ آئینی تقاضے کو پورا کرنے کے لیے اٹھائیس مارچ کو شام چار بجے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا ہے جس سے صدر آصف زرداری خطاب کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کا سیشن صرف ایک روز کے لیے ہو گا اور اس اجلاس سے خطاب میں صدر آصف زرداری کچھ اہم اعلانات کریں گے جن کی تفصیلات ابھی میڈیا کو نہیں بتائی جا سکتی ہیں
بابر اعوان نے نیوز کانفرس میں مزید کہا کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے ایک پانچ نکاتی روڑ میپ بنایا گیا تھا جس کے پہلے مرحلے میں بلوچستان کی صوبائی اسمبلی نے صوبے کے تمام مسائل کے حل تجویز کرنے اور اس حوالے سے ایک قرار داد منظور کرنی تھی۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف زرداری جو مصالحتی کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں وہ چھبیس مارچ کو بلوچستان کا دورہ کریں گے تاکہ صوبے کے مسائل کے حل کو حمتی شکل دی جا سکے۔
بابر اعوان نے اس موقع پر بلوچ راہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان کے تمام مسائل کے حل کے لیے ایک قرارداد جلد صوبائی اسمبلی میں پیش کریں تاکہ تجاویز کو آئینی اور قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















