ڈاکٹر عافیہ: ’بے حرمتی‘ کے خلاف پٹیشن

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
امریکہ میں قید پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عافیہ کی مبینہ بے حرمتی کے خلاف سندہ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے پر عدالت نے حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔
پٹیشن سینٹ کی قائمہ کمیٹی کی اس رپورٹ کے بعد دائر کی گئی ہے جس میں ڈاکٹر عافیہ نے کمیٹی کو بتایا ہے کہ انہیں ’کئی بار بے لباس کیا گیا اور بے حرمتی کی گئی‘ ۔
منگل کو سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیرجمالی اور جسٹس محمد کریم خان آغا پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی۔
کراچی کے سینئر وکیل نثار اے مجاہد نے یہ پٹیشن دائر کی ہے، جس میں وزارت داخلہ، وزارت خارجہ، اسٹیبلمشنٹ ڈویژن اور دیگر محکموں کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں اور واحد مسلم خاتون ہیں جو امریکہ کی تحویل میں ہیں جبکہ اُن کی بے حرمتی کرنے کی فلم بنانے کی کوئی بھی مہذب معاشرہ اجازت نہیں دیتا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ جن چھ سرکاری اہلکاروں نے یہ کام کیا ہے وہ مجرم ہیں لہذا انہیں ملازمت سے برطرف کرکے پاکستان کے حوالے کیا جائے تاکہ ان کے خلاف ملک کے اسلامی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔
درخواست میں عدلیہ کو بتایا گیا ہے کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں دونوں ممالک کے درمیان ایک پروٹوکول پر دستخط ہوئے تھے جس کے تحت ملزموں کا تبادلہ ہوسکتا ہے۔ اس درخواست کے ساتھ سینٹ کی قائمہ کمٹی کی رپورٹ منسلک کی گئی ہے، جس کے مطابق ڈاکٹر عافیہ نے اس کمیٹی کو ملاقات میں بتایا کہ نیویارک جیل میں چھ نقاب پوش افراد نے ان کے ہاتھ پیچھے باندھ دیئے اور بے لباس کردیا جس کے بعد ان کی فلم بنائی گئی۔
سیل میں واپسی کے وقت ایک خاتون نے ان کے جسم کو ایک کمبل سے ڈھانپ دیا اور ان نقاب پوشوں سے التجا کی کہ اس کی توہین نہ کریں لیکن پھر بھی کئی بار بے لباس کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ قائمہ کمیٹی نے تین سے چار ماہ پہلے رپورٹ جمع کروا دی تھی اور اب معلوم کیا جائے کہ حکومت نے اس رپورٹ کی روشنی میں کیا اقدامات کیے ہیں اور کیا کوئی سفارتی ذریعہ استعمال کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی بے حرمتی کیوں کی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہائی کورٹ میں ڈاکٹر عافیہ کے حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیموں کی دیگر دو درخواستیں بھی زیرسماعت ہیں۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ہدایت کی ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں دیگر دو درخواستوں کو بھی یکجا کرکے سماعت کے لیے پیش کیا جائے۔
نثار مجاہد ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ ان درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ اپنا موقف پیش کرے اور مزید سماعت پندرہ اپریل تک ملتوی کردی۔






















