صوفی محمد: عدالتوں سے مطمئن نہیں

قاضی کورٹ
،تصویر کا کیپشنشرعی نظام عدل ریگولیشن دو ہزار نو کا مسودے کی سمری حتمی منظوری کےلیے صدر مملکت آصف علی زرداری کو بھیجی گئی ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سوات
  • وقت اشاعت

کالعدم تحریک نفاذ شریعتِ محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد نے کہا ہے کہ وہ سوات میں قائم قاضی عدالتوں کے فیصلوں سے مطمئن نہیں کیونکہ ان عدالتوں کے پاس اختیارات نہ ہونے کی وجہ سے یہ عدالتیں فیصلے نہیں بلکہ مصالحت کروا رہی ہیں۔

سوات میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا صوفی محمد نے کہا کہ سوات میں شرعی عدالتوں نے کام تو شروع کردیا ہے لیکن قاضیوں کے پاس اختیارات نہ ہونے کی وجہ سے وہ عدالتی فیصلوں سے مطمئن نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قاضی فیصلے نہیں کرا رہے بلکہ فریقین کے مابین مصالحت کرارہے ہیں جس سے مقصد پورا نہیں ہورہا۔انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت نے امن معاہدے کو عملی جامہ نہیں پہنایا تو تحریک کے تمام کارکنوں سمیت وہ اپنا بوریا بستر گول کرکے گھر چلے جائیں گے پھر صوبائی حکومت جانے اور سوات جانے۔

مولانا صوفی محمد کا کہنا تھا کہ انہوں نے امن معاہدہ صوبائی حکومت سے کیا ہے نہ کہ صدر آصف علی زرداری سے اور صدر مملکت نظام عدل ریگولیشن مسودے پر دستخط کرتے ہیں یا نہیں یہ ان کا مسئلہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ شرعی نظام عدل کے اعلان کے باوجود مالاکنڈ ڈویژن میں بدستور ریگولر یا عمومی عدالتوں کام کررہی ہیں جو بقول ان کے امن معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ صوبائی حکومت نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ شرعی عدالتوں کی فعالی کے بعد مالاکنڈ ڈویژن میں قائم تمام ریگولر عدالتیں بند ہوجائیں گی لیکن اس کے باوجود ابھی تک کسی عدالت کو بند نہیں کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ شرعی نظام عدل ریگولیشن دو ہزار نو کا مسودہ سرحد حکومت کی طرف سے منظوری کے بعد اس کی سمری حتمی منظوری کےلیے صدر مملکت آصف علی زرداری کو بھیجی گئی ہے تاہم صدر نے اس پر ابھی تک دستخط نہیں کیا ہے۔