کوئٹہ میں دھماکہ، چار افراد زخمی

کوئٹہ پولیس
،تصویر کا کیپشنکوئٹہ میں مختلف واقعات کی ذمہ داری بلوچ ریپلکن آرمی کی خواتین ونگ نے قبول کی ہے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت

کوئٹہ کی ایک مصروف ترین روڈ پر دھماکے سے چار افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔دوسری طرف ڈیرہ بگٹی سے کشیدگی کی اطلاعات ہیں۔

ادھر بلوچستان اسمبلی میں کوئٹہ سمیت صوبہ بھر میں ٹارگٹ کلنگ اور امن و امان کے واقعات پر اراکین اسمبلی نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ دھماکہ جمعیت رائے روڈ پر ایک جوس کی دکان کے پاس ہوا ہے۔ جمعیت رائے روڈ شہر کے مصروف ترین علاقے پرنس روڈ لیاقت بازار اور عبدالستار روڈ کے قریب واقع ہے۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس سٹی خالد مسعود نے بتایا کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دھماکہ خیز مواد کس نے رکھا سڑک پر نصب کیا تھا۔ تاہم دھماکے سے جوس کی دکان کو نقصان پہنچا ہے۔ زخمیوں کا تعلق صوبہ پنجاب سے بتایا گیا ہے۔

اس دھماکے کی ذمہ داری اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کی خواتین ونگ کی ترجمان ظاہر کرنے والی گوہر بابی نامی خاتون نے قبول کی ہے۔ بی آر اے کی خواتین ونگ نئی تنظیم ہے اور کوئٹہ میں یہ تنظیم دوسری بار کسی واقعہ کی ذمہ داری قبول کر رہی ہے۔

ادھر ڈیرہ بگٹی سے کشیدگی کی اطلاعات ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ پیر کوہ میں سولہ انچ قطر کی گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑایا گیا ہے۔ یہ پائپ لائن کنویں سے پلانٹ کی طرف جاتی ہے۔

دریں اثناء اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ڈیرہ بگٹی اور پٹ فیڈر میں فرنٹییر کور کی چوکیوں اور تلی مٹ میں پولیس چوکی پر حملہ کیا ہے جس میں پولیس اور ایف سی کے دس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

فرنٹیئر کور کے حکام نے ان واقعات کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ گزشتہ دنوں سرچ آپریشن کے دوران انھوں نے مسلح افراد کے دو کیمپ تباہ کر دیے ہیں جہاں سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا ہے لیکن کوئی ہلاکت یا گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔

اس بارے میں بی آر اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا کوئی کیمپ تباہ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی وہ فراری ہیں بلکہ وہ مزاحمت کار ہے جو بلوچستان کے لیے لڑ رہے ہیں۔

ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے وزیر جان علی چنگیزی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گزشتہ آٹھ ماہ میں صرف ان کے قبیلے کے ستر سے زیادہ افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا ہے۔