بیت اللہ پر پچاس لاکھ ڈالر کا انعام

امریکہ نے بیت اللہ محسود سمیت تین طالبان اور القاعدہ رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد پرگیارہ ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔
امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر موجود ایک بیان کے مطابق بیت اللہ محسود اور سراج الدین حقانی کی گرفتاری میں مدد دینے یا ان کے ٹھکانے کی نشاندہی پر پچاس پچاس لاکھ ڈالر جبکہ ابو یحیٰی اللبی کی گرفتاری میں مدد پر دس لاکھ ڈالر انعام مقرر کیا ہے۔
سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق ’ بیت اللہ محسود پاکستان میں سرگرم طالبان کی تنظیم تحریکِ طالبان کا کرتا دھرتا اور پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کا مرکزی مددگار ہے‘۔
بیت اللہ محسود کا نام پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے سلسلے میں بھی لیا جاتا رہا ہے اور پاکستان میں اس قتل کے الزام میں ان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔ خیال رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جانے والے علاقے مکین میں بدھ کو ہی ایک مبینہ امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں سات عرب باشندے ہلاک ہوئے ہیں۔
سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے افغان مجاہد رہنما جلال الدین حقانی کے بیٹے سراج الدین حقانی کی گرفتاری میں مدد دینے یا ان کے ٹھکانے کا پتہ فراہم کرنے پر بھی پچاس لاکھ ڈالر کا انعام رکھا ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقے میں واقع مولانا جلال الدین حقانی کے مدرسے اور گھر کو گزشتہ برس میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جلال الدین حقانی اور سراج حقانی کو کابل میں بھارتی سفارتخانے پر ہونے والے خودکش حملے کا ذمہ دار بھی قرار دیا جاتا رہا ہے۔


















