’گورنر راج دو ماہ سے زائد نہیں‘

- مصنف, علی سلمان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پنجاب کا گورنر راج دو مہینے سے زیادہ نہیں چل سکتا اور ’ہمیں یعنی پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ خود سے جمہوری طور پر اس بارے میں فیصلہ کریں‘۔
یہ بات انہوں نے بدھ کے روز لاہور سٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں پیپلز پارٹی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ وہ گورنر راج کے خلاف ہیں اور چاہتے ہیں کہ پنجاب کا اقتدار منتخب اراکین پارلیمان کے ہاتھوں میں آئے۔
گورنر راج کو نافذ ہوئے مہینہ ہونے والا ہے اور آئینی ماہرین کےمطابق انتیس روز کے بعد پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے اس کی توثیق کرانا ضروری ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ پارلیمنٹ گورنر راج کے حق میں نہیں ہے اور کوئی پارلیمنٹ کبھی گورنر راج کے حق میں فیصلہ نہیں دیتی۔
یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو گورنر راج کے خاتمے کے لیے صدر مملکت کو ایڈوائس جاری کرسکتے ہیں لیکن انہوں نے اپنا یہ اختیار صدر آصف زرداری کو دے دیا ہے اور جب وہ چاہیں گے تب وہ انہیں مشورہ جاری کردیں گے۔
یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اب یہ فیصلہ بھی پیپلز پارٹی کی پارلیمانی جماعت کو کرنا ہے کہ وہ مشترکہ حکومت بنائے گی یا اپوزیشن میں بیٹھے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ نہیں ہونی چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت پوری قوم ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی نظریں پنجاب کے سیاسی حالات پر لگی ہیں۔
انہوں نے کہا اگر لانگ مارچ کےموقع پر جج بحال نہ کیے جاتے تو ملک کا وجود خطرے میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سندھ بمقابلہ پنجاب والی بات بن چکی تھی اور اسی لیے ججوں کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا جو ان کے بقول ملک و قوم کے مفاد میں تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیراعظم نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے فیصلے سے پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوا ہے۔
وزیر اعظم کے اس خطاب کے بعد مسلم لیگ نون پنجاب کے صدر سردار ذوالفقار علی کھوسہ نے کہا کہ گورنر راج ختم ہونے والا ہے اور وہ بیوروکریسی کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ گورنر کے غیر قانونی اور غیر آئینی احکامات نہ مانیں۔
ادھرلاہور ہائی کورٹ نے بھی گورنر راج کے خلاف مقدمے کی سماعت کا آغاز کردیا ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے گورنر راج کے خلاف ایک جیسی دو درخواستوں کی پہلی سماعت کی۔
درخواست گزار زاہد حسین کے وکیل ڈاکٹر فاروق حسن نے اپنے دلائل میں گورنر راج کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ اسے کالعدم قرار دیا جائے۔ طارق عزیز ایڈووکیٹ اور بیرسٹر اے کے ڈوگر بھی عدالت پیش ہوئےاور انہوں نے دلائل دیے۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے گورنر راج کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی بلکہ انہوں نے جواب دینے کے لیے مہلت طلب کی۔ چیف جسٹس نے وفاق کو ہدایت کی کہ وہ ایک روز کے اندر اپنا جواب داخل کرے۔ اب اس مقدمے کی سماعت جمعہ کوہوگی۔






















