بیت اللہ پر انعامی رقم کیوں رکھی گئی؟

بیت اللہ محسود
،تصویر کا کیپشناڑتیس سالہ بیت اللہ محسود دو ہزار چار میں جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے میں سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں کی وجہ سے میڈیا کی نظروں میں پہلی مرتبہ آئے۔ تاہم اس سے قبل وہ افغانستان میں بھی لڑچکے تھے
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں گزشتہ پانچ برسوں تک بظاہر نظر اندز کرتے رہنے کے بعد امریکہ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے رہنما بیت اللہ محسود پر پچاس لاکھ ڈالر کی انعامی رقم رکھ دی ہے۔

ماہرین کے خیال میں افغانستان میں موسم بہار کی آمد پر بیت اللہ محسود جیسے شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر امریکہ نے بھی طالبان قیادت پر دباؤ بڑھانے کی خاطر یہ قدم اٹھایا ہے۔

فریقین میں جنگ تو کافی عرصے سے جاری ہے لیکن اب اس میں نئی جہتوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک جانب اگر تین قبائلی جنگجو سردار ماضی کے اختلاف بھلا کر ایک کشتی پر سوار ہوئے ہیں تاکہ پاکستان سے زیادہ افغانستان میں کاروائیاں تیز کریں تو دوسری جانب امریکہ نے ان کے علاقوں میں ڈرون حملوں میں نہ صرف اضافہ کیا ہے بلکہ ان کی قیادت کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش بھی شروع کر دی ہے۔

قبائلی علاقوں میں خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ برگیڈئر ریٹائرڈ اسد منیر کہتے ہیں کہ پاکستان میں تین طالبان رہنماؤں کے اتحاد اور ان کا اعلان کہ وہ افغانستان میں امریکہ کو نشانہ بنائیں گے اس انعامی رقم کی اصل وجہ ہے۔

امریکی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ اب تک ’ریوارڈ فار جسٹس‘ نامی پروگرام کے تحت انیس سو چوراسی سے اب تک پچاس افراد میں آٹھ کروڑ ڈالر کی رقم اب تک ادا کرچکی ہے جن کی مہیا کی گئی معلومات سے اسے مطلوبہ افراد کو گرفتار کرنے یا دہشت گردی کی کوشش ناکام بنانے میں مدد ملی۔

تاہم پاکستان میں اس طریقہ کار سے کیا امریکہ کو خاص کامیابی ہوسکتی ہے؟ برگیڈئر اسد منیر کے خیال میں ان انعامات سے مدد ضرور ملتی ہے۔ ’وہ لوگ جن پر انہوں نے ہیڈ منی رکھی ہے وہ ایک انتہائی محدود سرکل میں گھومتے ہیں۔ میرا نہیں خیال کسی نے اسامہ کو نومبر دو ہزار ایک کے بعد دیکھا ہے۔ لیکن محسود علاقے کے لوگوں کو اگر یہ اعتماد ہو کہ حکومت ان کا ساتھ دے گی تو وہ اس کے خلاف لڑتے لیکن اب اس انعام سے بھی فائدہ ہوگا۔‘

بعض لوگ یہ قیاس بھی کرتے ہیں کہ اگر امریکہ نے بیت اللہ کو اب تک ہدف نہیں بنایا تو وہ شاید ان کے ذریعے القاعدہ کی بڑی مچھلیوں تک پہنچنا چاہتا ہے۔تاہم برگیڈئر اسد منیر اس سے متفق نہیں۔ ’اس وقت وہ امریکہ کے لیے اہم نہیں تھا لیکن اب ہے۔‘

ماضی میں ایسی خبریں سامنے آتی رہی ہیں کہ پاکستانی خفیہ اداروں نے امریکہ کو بیت اللہ محسود کی موجودگی کے بارے میں کئی مرتبہ معلومات فراہم کیں لیکن انہوں نے اسے راستے سے نہیں ہٹایا کیونکہ بیت اللہ محسود کی اس وقت ترجیح پاکستانی سکیورٹی ادارے تھے۔ افغانستان میں مزید امریکی فوج بھیجنے کے اعلان سے صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔

اب امریکہ کو بیت اللہ محسود کے خلاف گھیرا تنگ کرنا ہی ہے کیونکہ اس نے اپنا رخ افغانستان کی جانب تبدیل کر دیا ہے۔ ڈرون حملے اور انعامی رقم کے علاوہ بیت اللہ محسود مخالف گروپ کے قیام اور اسے سرکاری مدد کو بھی اسی سلسلے کی کڑی تصور کیا جا رہا ہے۔

کافی عرصہ غائب رہنے کے بعد نیم قبائلی علاقے جنڈولہ میں نعمت خیل بیٹنی قبائل کی امن کمیٹی کے سربراہ تُرکستان بیٹنی کی سرگرمیاں دوبارہ بڑھی ہیں جن کی وجہ سے آج وہاں خودکش حملہ بھی ہوا ہے۔محسود قبیلہ جغرافیائی لحاظ سے چاروں طرف سے بیٹینی اور وزیر قبائل کے گھیرے میں ہے۔

لیکن ان کا باہر کی دنیا سے اہم رابطہ سڑک بیٹنی علاقے سے ہی گزرتی ہے۔ پاکستان کے باقی علاقوں سے رابطے کی وجہ سے یہ سڑک انتہائی اہم ہے۔ تاہم بیت اللہ محسود نے ترکستان سے جنگ جاری رکھتے ہوئے گزشتہ دنوں وضاحت کی تھی کہ ان کی لڑائی بیٹنی قبائل سے نہیں بلکہ صرف تُرکستان کے ساتھ ہے۔

بریگیڈیئر اسد منیر
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں تین طالبان رہنماؤں کے اتحاد اور ان کا اعلان کہ وہ افغانستان میں امریکہ کو نشانہ بنائیں گے اس انعامی رقم کی اصل وجہ ہے: بریگیڈیئر اسد منیر

حکومت پاکستان نے بھی امریکی اعلان کی تائید کی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وہ ان اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے اس کی مذمت کرتے ہوئے الٹا امریکی رہنماؤں پر حملوں کی دھمکی دی ہے۔

تقریباً اڑتیس سالہ بیت اللہ محسود دو ہزار چار میں جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے میں سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں کی وجہ سے میڈیا کی نظروں میں پہلی مرتبہ آئے۔ تاہم اس سے قبل وہ افغانستان میں بھی لڑچکے تھے۔

انہوں نے فروری دو ہزار پانچ میں سراروغا کے مقام پر حکومت کے ساتھ ایک امن معاہدہ کیا تھا تاہم انہوں نے قبائلی علاقوں میں طالبان کی ایک بڑی تنظیم کی بنیاد دسمبر دو ہزار سات میں رکھی تھی۔ انہیں اسی ماہ کے اواخر میں پیپلز پارٹی کی سربراہ بےنظیر بھٹو کی ہونے والے قتل کے بعد حکومت نے اس کا شک ان پر کیا۔ تاہم وہ اس سے انکار کرتے رہے۔

حکومت نے بیت اللہ محسود گروپ کے کئی مبینہ خودکش حملہ آوروں کو گرفتار بھی کیا لیکن ان سے انہیں اس تک رسائی میں مدد نہیں مل سکی ہے۔ اب انعام کی کشش سے امریکی ان پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔