افغانستان پاکستان: نئی امریکی پالیسی

بیت اللہ محسود
،تصویر کا کیپشنتحریکِ طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کی گرفتاری میں مدد دینے پر مجموعی طور پر گیارہ ملین ڈالر بطورِ انعام دینے کا اعلان کیا گیا ہے
    • مصنف, عبدالحئی کاکٹر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

ایک ایسے موقع پرجب اوباما انتظامیہ پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک جامع پالیسی کا اعلان کرنے والی ہے، سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے القاعدہ اور طالبان رہنماؤں بالخصوص تحریکِ طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کی گرفتاری میں مدد دینے پر مجموعی طور پر گیارہ ملین ڈالر بطورِ انعام دینے کا اعلان کیا گیا ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ امریکہ کی نئی تشکیل پانے والی افغان اور پاکستان پالیسی بش انتظامیہ کے مقابلے میں کتنی جارحانہ ہوسکتی ہے جس میں جنگ کی جغرافیائی پھیلاؤ کی جھلک بھی نظر آرہی ہے۔

امریکہ کے اس اقدام سے حکومتِ پاکستان کی طرف سے گزشتہ کئی سالوں سے قدرے مبہم الفاظ میں دیا جانے والا یہ تاثر بھی زائل ہوگیا ہے کہ دراصل پاکستان میں جاری شدت پسندی میں امریکہ کا ہی ہاتھ ہے تاکہ مبینہ شدت پسندوں کو پاکستانی فوج کے ساتھ صف آرا کر کے خود افغانستان میں طالبان مزاحمت کاروں کے ساتھ بڑی آسانی سے نمٹا جا سکے۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی دور ِحکمرانی میں نگران وزیر داخلہ میجر جنرل ریٹائرڈ حامد نواز نے تو ایک بار واضح الفاظ میں یہ کہا تھا کہ پاکستان میں شدت پسندی میں امریکہ کا ہاتھ ہے لیکن اس بیان کے فوراً بعد حکومتِ پاکستان نے وضاحتیں کر کے اس کی شدت کو بہت حد تک کم کردیا تھا۔

بعض سکیورٹی اہلکاروں نے ملاقاتوں کے دوران اس شک کا اظہار کیا تھا کہ امریکی ڈرون حملوں میں بیت اللہ محسود کو کیوں نشانہ نہیں بنایا جاتاہے۔ ایک اہلکار نے تو اس حد تک دعویٰ کیا کہ انہوں نے سرحد پار موجود امریکی افواج کو دو مرتبہ بیت اللہ محسود کے جائے قیام کی نشاندہی کی مگر انہوں نے انہیں نشانہ نہیں بنایا۔

خود جنوبی وزیرستان میں طالبان کے اپنے دھڑے کے سربراہ مولوی نذیر نے بھی ایک بار کہا تھا کہ امریکہ ان طالبان کمانڈروں کو نشانہ بنا رہا ہے جو سرحد پار افغانستان میں ان سے لڑتے ہیں مگر وہ پاکستانی سکیورٹی فورسز سے برسرِ پیکار کمانڈروں پر حملہ کیوں نہیں کرتا۔

سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے حالیہ اعلان سے یہ قیاس بھی ہوتا ہے کہ بیت اللہ محسود کو بھی اب ڈرون حملے کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ اوباما انتظامیہ کی آمد کے ساتھ ہی ڈرون حملوں کا دائرہ غیر ملکی جنگجوؤں بالخصوص عربوں سے مقامی طالبان کے نشانہ بنائے جانے تک پھیل چکا ہے۔

پہلے صرف شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں مولوی نذیر گروپ کے زیر کنٹرول ان علاقوں میں ڈرون حملے ہوا کرتے تھے جن پر یہ شک کیا جاتا تھا کہ وہاں عرب جنگجؤوں کو پناہ گزین ہیں لیکن اب بیت اللہ محسود کے زیر اثر علاقوں پر بھی میزائل حملے معمول کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔

سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے جن تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری پر انعام کا اعلان کیا ہے ان میں پاکستانی طالبان کے کمانڈر، افغان طالب رہنما سراج الدین حقانی جنہیں افغانستان اور پاکستان میں طالبان کا اہم رابط کار سمجھا جاتا ہے اور القاعدہ کے اہم رہنما ابو یحییٰ اللیبی شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اس اقدام کے ذریعے پاکستانی، افغان طالبان اور القاعدہ کوایک سہ جہتی ربط کے طور پر دکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ امریکی حکام نے کئی بار الزام لگایا ہے کہ یہ تینوں افراد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود ہیں تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ امریکہ کی نئی افغان اور پاکستان پالیسی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا محور افغانستان سے زیادہ پاکستان ہوگا۔

بعض مبصرین یہ سمجھتے ہیں کہ سب کچھ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب پاکستان میں سرگرم طالبان نے سوات، باجوڑ اور شمالی اور جنوبی وزیرستان میں اپنے اپنے طور پر حکومت پاکستان کے ساتھ خفیہ معاہدے اور آپس میں اتحاد کرکے بظاہر یہ تاثر دیا ہے کہ اوباما انتظامیہ کی نئی پالیسی کے ردعمل میں پاکستانی طالبان افغان طالبان کے ساتھ باہمی صلاح مشورے سے نئے سرے سے صف بندی کرنے کا سوچ رہے ہیں جس کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاکستان کے محاذ کو پالیسی کے باقاعدہ طور پر آنے تک وقتی طور پر بند کر دیں۔

ایسا لگتا ہے کہ طالبان اور ان کے پسِ پشت کھڑی قوتوں کی اس حکمت عملی نے واشنگٹن میں موجود پالیسی سازوں کے مختلف اشارہ دیا ہے اور انہوں نے مبینہ سوچ کو بھانپتے ہوئے جامع افغان پالیسی کے اعلان سے قبل حالیہ قدم اٹھایا۔