امریکی پالیسی مثبت ہے: پاکستان

پاکستان وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان کے بارے اوبامہ انتظامیہ کی نئی پالیسی کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئی حکمتِ عملی پورے خطے کی صورتحال پر محیط ہے۔
ماسکو میں ہونے والی افغانستان کے بارے میں ایک کانفرنس میں شریک پاکستانی وزیر خارجہ نے خبر رساں ادارے رائٹر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکی پالیسی میں اس لیے فعال اور تعمیری کردار ادا کرنا چاہتا ہے کیونکہ افغانستان سے پاکستان میں مداخلت ہو رہی ہے اور پاکستان کا امن و تحفظ افغانستان سے منسلک ہے۔
اسلام آباد سے ہمارے ساتھی ذیشان ظفر کے مطابق پاکستان کے دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان سے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی سے پاکستان کی حکومت اور فوج پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ قبائلی علاقوں سے دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے مکمل خاتمے کو ہر صورت یقینی بنائیں۔
دفاعی امور کے تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کے بارے میں جو نئی پالیسی وضع کی ہے اس میں ایک طرف تو پاکستان کو معاشی امداد کی یقین دہانی کروائی گئی ہے اور دوسری جانب امریکہ پاکستان سے توقع کر رہا ہے کہ وہ قبائلی علاقوں سے القاعدہ اور طالبان کی سرگرمیوں کو سنجیدگی سے ختم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے پاکستان کے بارے میں جو اصول وضع کیے ہیں ان میں پاکستان کی معاشی امداد کے ساتھ طاقت کے استعمال کو یکجا کیا گیا ہے۔
حسن عسکری رضوی نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ پانچ سال کے دوران قبائلی علاقوں میں اثر بڑھانے کی بجائے کھویا ہے۔ اور موجودہ حکومت نے بھی قبائلی علاقوں کے حالات کو ٹھیک کرنے کے لیے ابھی تک کسی خاص عزم کا اظہار نہیں کیا ہے۔
ڈاکٹر حسن عسکری کے مطابق اگر پاکستان قبائلی علاقوں سے طالبان اور القاعدہ کے وجود کو ختم کرنے کے لیے کوئی خاص اقدامات نہیں اٹھاتا تو امکان ہے کہ امریکہ کی جانب سے قبائلی علاقوں میں جاسوس طیاروں کے حملوں میں قابل ذکر اضافہ دیکھنے میں آئے۔
تجزیہ کار اور صحافی نجم سیٹھی نے کہا کہ اب امریکہ پاکستان کی فوج سے توقع کرے گا کہ وہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو مکمل طور پر ختم کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے کے جس عزم کا اظہار کیا ہے اس سے پاکستان کی حکومت پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ اس حوالے سے موثر اقدامات اٹھائیں۔






















