شریف برادران نااہلی کیس، بینچ تشکیل

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی اہلیت کے بارے میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت کے لیے جسٹس تصدق حیسن جیلانی کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا ہے۔
جمعہ کے روز تشکیل دیے گئے اس بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس ناصرالملک، جسٹس موسٰی کے لغاری، جسٹس شیخ حاکم علی اور جسٹس صبیح الدین احمد شامل ہیں۔
پانچ رکنی بینچ اس ماہ کی تیس تاریخ سے نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت کرے گا۔ نظر ثانی کی یہ درخواستیں وفاقی حکومت، میاں نواز شریف کے تجویز کنندہ مہر ظفر اقبال اور تائید کنندہ شکیل بیگ کی طرف سے دائر کی گئی ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف اور سابق وزیر اعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف نے بھی نظر ثانی کی ان درخواستوں میں فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ آئندہ ایک دو روز میں اپنی درخواستیں دائر کریں گے۔
حکومت نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف حکم امتناعی کی درخواست بھی دائر کی ہے۔ اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ کے مطابق اگر یہ درخواست منظور ہوجاتی ہے تو پنجاب میں صورتحال چوبیس فروری والی صورتحال میں واپس چلی جائے گی جب میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلٰی تھے۔
واضح رہے کہ شریف برادران نا اہلی کے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ اُن کا مؤقف تھا کہ وہ سابق صدر پرویز مشرف کے عبوری حکم نامے کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔
تاہم وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے سولہ مارچ کو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے علاوہ دیگر معزول ججوں کی بحالی کے بعد شریف برادران نے ان عدالتوں میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ جسٹس موسٰی کے لغاری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پچیس فروری کو شریف برادران کی اہلیت کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اُنہیں نااہل قرار دے دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد پنجاب میں ایک سیاسی بحران پیدا ہو گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















