عام معافی حل نہیں: زرداری

- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- وقت اشاعت
صدر پاکستان آصف علی زرداری نے بلوچستان میں عام معافی کے اعلان کو بے سود قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں پارلیمانی کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں اور بلوچستان اسمبلی سے اس بارے میں جو بھی قانون سازی ہوگی وہ اس کی حمایت کریں گے۔
جمعہ کو کوئٹہ میں اپنے دو روزہ دورے کے اختتام پر ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ وہ اب بلوچستان کے لیے عام معافی کا اعلان کر سکتے ہیں لیکن اس سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی عام معافیوں کا اعلان کیا گیا تھا جس کا کچھ فائدہ نہیں ہوا ہے۔
اس بارے میں آصف زرداری نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کو بھی اس بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ اس پر کام کریں اور ایک آئینی پیکج تجویز کریں اور بلوچستان اسمبلی سے منظور ہونے والی کسی بھی قرارداد یا مطالبے کی حمایت کریں گے۔
آصف زرداری کے مطابق معافی اور تلافی کا تین مرتبہ پہلے اعلان ہو چکا ہے لیکن قابل عمل چیز وہ ہے جس کی آئین میں گارنٹی ہو اور پھر اس پر عمل ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔
بلوچستان کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پچاس سالوں میں بلوچستان کے مسائل میں اضافہ ہوتا گیا ہے اس کے حل کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ انہیں نے کہا کہ انہیں صدر بنے صرف چھ ماہ ہوئے ہیں اور ان مسائل کے حل کے لیے وقت درکار ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ بلوچ سردار نوروز خان کی لاش سندھ کی سرزمین سے بلوچستان آئی تھی اور وہ بلوچستان کے لوگوں کا درد سمجھتے ہیں اور ان کے کندھوں پر تاریخ کا بھار رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے بلوچستان کے لیے چھیالیس ارب روپے کے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے جس میں چھتیس ارب روپے دو بڑے ڈیموں کے لیے اور اڑھائی ارب روپے چھوٹے ڈیموں کے لیے رکھے گئے ہیں۔ کوئٹہ شہر کی ترقی کے لیے تین ارب روپے کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے سابق صدر پرویز مشرف نے کوئٹہ کے ایک دورے کے دوران بلوچستان سے ماضی کی زیادتیوں کی معافی مانگی تھی اور پھر اس کے کچھ عرصہ بعد دسمبر دو ہزار پانچ میں بلوچستان کے علاقے کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر آصف علی زرداری کے کوئٹہ کے اس دورے کے دوران جمعہ کو بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں پاکستان سے بلوچستان کے الحاق کے خلاف مظاہرے کیے گئے ہیں۔ کوئٹہ میں بلوچ نیشنل فرنٹ نے ایک بڑی ریلی میں حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کی گئی ہے۔
اس وقت بلوچستان میں ایسے مختلف گروپس ہیں جو بلوچستان میں مشرف دور میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد ناراض ہیں۔ یہ ناراضگی بلوچ بزرگ رہنما نواب اکبر بگٹی کی فوجی آپریشن کے بعد شدت اختیار کر گئی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کے اس دورے کے دوران ایک بڑے اعلان کی توقع تھی جس میں تمام گروپس سے مذاکرات کے لیے پیش رفت کی جاتی تاکہ مسئلے کا حل نکالا جا سکتا۔






















