’بیت اللہ محسود سے بدلہ لیں گے‘

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ایک مسلح گروپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ بیت اللہ محسود سے جنڈولہ میں گزشتہ دنوں ہوئے خودکش حملے کا بدلہ ضرور لیں گے تاہم عام قبائلیوں کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔
کسی نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے اپنے آپ کو عبداللہ محسود گروپ کا ترجمان قرار دینے والے شخص طوفان محسود نے الزام عائد کیا کہ بیت اللہ محسود گروپ کے مساجد پر حملوں اور قرآن کو مبینہ طور پر نظر آتش کرنے کے ان کے پاس ثبوت موجود ہیں۔
اس گروپ کی قیادت زین الدین محسود کر رہے ہیں اور یہ کچھ عرصہ قبل قائم کی گئی تھی۔ اس میں ترکستان بیٹنی نامی شخص بھی شامل ہے جس کو ہلاک کرنے کی بیت اللہ گروپ کئی مرتبہ کوشش کر چکا ہے۔
بیت اللہ محسود کی کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے جنڈولہ حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
طوفان محسود کا دعوی تھا کہ جنڈولہ گروپ میں ان کے ایک ساتھی کے علاوہ تمام ہلاک ہونے والے عام شہری تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ محسود علاقے کو ملک کے ملانے والی سڑک صرف بیت اللہ محسود گروپ کے لوگوں کے لیے بند ہے عام شہریوں کے لیے نہیں۔
بیت اللہ گروپ کے ساتھ مذاکرات کے امکان کے بارے میں ترجمان کا کہنا تھا کہ امارات سے لوگ آئے تھے تاہم بیت اللہ محسود نے شریعت سے انکار کر دیا تھا لہذا اب کسی معاہدہ کا امکان نہیں۔
عبداللہ محسود گروپ نے ماضی میں بیت اللہ کے خلاف مختلف زبانوں میں دستی اشتہار بھی تقسیم کیئے تھے جن میں ان پر جہادی رہنماؤں کو قتل کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔
یہ گروپ بیت اللہ سے عبداللہ محسود کی ژوب میں ہلاکت کے بعد علیحدہ ہوگیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محسود علاقے میں مختلف گروپوں کے سامنے آنے اور حالیہ دنوں میں زیادہ متحرک ہونے سے خیال ہے کہ حکومت پاکستان اور امریکہ کے لیئے قابل اطمینان عمل ہوگا لیکن اس خطے میں مزید خون خرابے کا سبب بھی بن سکے گا۔






















