’یہاں قیمتیں رک جاتی ہیں گرتی نہیں‘

’اسلام آباد کے ایف اور ای سیکٹر میں قیمتیں کم نہیں ہوتیں‘
،تصویر کا کیپشن’اسلام آباد کے ایف اور ای سیکٹر میں قیمتیں کم نہیں ہوتیں‘
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف پاکستان کا مہنگا ترین شہر ہے بلکہ معاشی بحران کے حالیہ دور میں بھی یہاں جائیداد کی حد تک قیمتیں اپنی جگہ پر قائم ہیں۔

شہر کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے نے گزشتہ دنوں انچاس رہائشی اور تجارتی پلاٹس کی نیلامی کی جس سے اسے سوا ارب روپے سے زائد کی آمدن ہوئی۔ نیلامی میں عام شہریوں اور تجارتی طبقے کی شرکت ماضی سے زیادہ رہی جس کی وجہ سے سی ڈی اے کو توقعات سے دوگنی قیمت ملی۔

اس نیلامی میں سب سے مہنگا رہائشی پلاٹ ایک سرکردہ صحافی نے خریدا۔ ایف گیارہ میں واقعے اس پانچ سو مربع گز پلاٹ کی قیمت ساڑھے تین کروڑ روپے سے زائد لگی۔ اسی طرح تجارتی پلاٹوں میں گی گیارہ سیکٹر میں تقریباً سترہ سو مربع فٹ کے ایک پلاٹ کی کامیاب بولی ستائیس کروڑ پچپن لاکھ روپے کی تھی۔

معاشی بحران کی وجہ سے سی ڈی اے کو خدشہ تھا کہ اس نیلامی میں کم خریدار آئیں گے یا پھر قیمت مناسب نہ ملے گی لہذٰا پلاٹوں کی تعداد کم رکھی گئی۔ ادارے کے ممبر اسٹیٹ بریگیڈئر ریٹائرڈ اسد منیر کا کہنا ہے کہ انہیں لوگوں نے مشورہ دیا تھا کہ وہ اس وقت یہ نیلامی نہ کریں انہیں خریدار نہیں ملیں گے۔’لیکن جب نیلامی ہوئی تو لوگوں نے بڑھ چڑھ کر خریداری میں حصہ لیا بلکہ بعض نے کم پلاٹ رکھنے کی شکایت بھی کی‘۔

ایک طبقے کی رائے یہ ہے کہ اسلام آباد پر ملکی اور عالمی سطح پر جاری اقتصادی بحران کا کوئی خاص فرق اس لیے نہیں پڑا کیونکہ یہاں خرید و فروخت کرنے والے تمام افراد بااثر سرکاری اہلکار یا سیاسی و نجی شخصیات ہوتی ہیں۔ تاہم اسلام آباد میں جائیداد کی خرید وفروخت کے ایک ادارے لیاقت اسٹیٹ کارپوریشن کے محمود اختر اس سے متفق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں جاری اضافے کی اصل وجہ شہر میں اچھے پلاٹوں کی کمی ہے۔ ’خریدار یہاں بہت ہیں لیکن اچھی اراضی ملنا مشکل ہے‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت ہونے کی وجہ سے خریدار چاہے ملک کے اندر ہو یا باہر وہ اپنی سرمایہ کاری یہاں کرنا چاہتا ہے کیونکہ یہاں اس پر منافع بھی اچھا ملتا ہے۔ اسلام آباد کے ایف اور ای سیکٹر اس اعتبار سے خصوصی حیثیت رکھتے ہیں کہ یہاں قیمتیں کم نہیں ہوتیں۔ سی ڈی اے کے ممبر اسٹیٹ اسد منیر بھی اس بات سے متفق ہیں کہ یہ اسلام آباد کا اپنا کمال ہے کہ یہاں قیمتیں بڑھنے سے رک جاتی ہیں لیکن گرتی نہیں۔