پنجاب سے گورنر راج کے خاتمے کا ’اعلان‘

آصف زرداری
،تصویر کا کیپشنگزشتہ ایک سال کے دوران صدر آصف زرداری کی مقبولیت میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

صدر آصف علی زرداری نے پنجاب میں گورنر راج کے خاتمے کی سفارش کرتے ہوئے پنجاب میں اکثریت رکھنے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون حکومت بنانے کے دعوت دی ہے۔

سینیچر کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کی وزارت اعلٰی کے لیے پاکستان مسلم لیگ نون کے کسی بھی اُمیدوار کی حمایت کرے گی۔

صدر کے خطاب کے بعد صحافیوں سے بات چیت کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات نشریات قمر زمان کائرہ نے بتایا ہے کہ ’صدر نہ تو خود گورنر راج لگاتے ہیں اور نہ ہی گورنر راج کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گورنر راج کے نفاذ اور خاتمے کے لیے وزیراعظم کی سفارشات پر عمل کیا جاتا ہے‘۔

اپنے خطاب میں صدر زرداری نے کہا کہ وہ لوٹا کریسی اور کسی بھی فاروڈ بلاک کی سیاست کے خلاف ہیں اور ہمیں جمہوریت کے لیے مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ صدر کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ایک دوسرے کو چیلنج کرنے کی بجائے اُن چیلنجوں کا مقابلہ کرنا چاہیے جو اس وقت ملک کو درپیش ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔صدر زرداری نے قومی اسمبلی کی سپیکر سے کہا کہ سترہویں ترمیم کے خاتمے اور اٹھاون ٹو بی کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں جو اس ضمن میں اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے۔ انہوں نے کہا یہ تمام ترامیم میثاق جمہوریت کے تحت ہوں گی جس پر پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو نے بھی دستخط کیے تھے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان یہ جنگ اپنے مفاد میں لڑ رہا ہے۔ صدر زرداری نے امریکی صدر براک اوباما کی پاکستان اور افغانستان کے بارے میں پالیسی کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ پاکستان کو آئندہ پانچ سال کے دوران دی جانے والی امداد سے ملک میں دہشت گردی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

صدر آصف زرداری کا کہا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔ ملک کی خارجہ پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور ہمسایہ ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مثالی ہیں جبکہ افغانستان کے ساتھ بھی تعلقات میں بہتری آئی ہے۔بھارت کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرنے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ ممبئی واقعہ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں سرد مہری اگئی تھی تاہم ان حملوں کی سازش میں ملوث افراد کی گرفتاری کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری ائے گی اور دونو ں ملکوں کے درمیان جامع مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے سینتالیس ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے اور حکومت اس کی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس صوبے کے تمام قبائلی سرداروں کے ساتھ مذاکرات کرے گی اور اُن کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے کوششیں کرے گی۔بینظیر بھٹو کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ یہ قتل ملک کے خلاف ایک سازش تھی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے جو اپنی تشکیل کے چھ ماہ کے اندر اس کی رپورٹ پیش کر دے گا۔

صدر زرداری کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر سکیورٹی کے سخت اقدامات کیےگئے تھے۔ پارلیمنٹ ہاؤس شاہراہ دستور پر واقع ہے اور اس علاقے کو ریڈ زون قرار دیا گیا تھا اور اس علاقے میں سکیورٹی کی تمام تر ذمہ داری رینجرز کے سپرد کر دی گئی تھی۔ خطاب کے موقع پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر داخلہ محدود کر دیا گیا اور صرف اُنہی افراد کو پارلیمنٹ کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت تھی جن کے پاس خصوصی دعوت نامے تھے۔

واضح رہے کہ صدر زرداری کے گذشتہ برس پارلیمنٹ کے مشرکہ اجلاس سے خطاب کے بعد اسلام آباد میں میرئیٹ ہوٹل کے مرکزی دروازے پر ایک خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 50 سے زائد افراد ہلاک اور 60 افراد زخمی ہوگئے تھے۔