’حملوں کے پیچھے آئی ایس آئی کا ہاتھ‘

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کے رہنما ملا نذیر احمد نے الزام عائد کیا ہے کہ مساجد میں خودکش حملے وہ نہیں بلکہ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کر رہی ہے۔
دوسری جانب ان کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کی نئی انتظامیہ سے کسی مثبت تبدیلی کی توقع نہیں رکھتے۔
یہ باتیں انہوں نے بی بی سی کو موصول ہونے والے ایک تازہ ویڈیو انٹرویو میں کہی ہیں۔ تقریباً ایک گھنٹے کا یہ انٹرویو بظاہر وزیرستان میں کسی پہاڑی علاقے میں فلمبند کیا گیا ہے جس میں ملا نذیر اپنے مسلح ساتھیوں کے ساتھ کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔
مساجد میں خودکش حملوں کے بارے میں ملا نذیر کا کہنا تھا کہ یہ خفیہ اداروں کا کام ہے ان کا نہیں۔ ’ہم مسلمانوں کو نشانہ نہیں بناتے۔ ہم صرف فوج پر حملے کرتے ہیں کیونکہ وہ امریکہ کی مدد کرتی ہے۔ ہم مساجد میں حملے کرنے والوں کی مذمت کرتے ہیں‘۔
ملا نذیر نے صرف مساجد کی حد تک حملوں کی ذمہ داری آئی ایس آئی پر نہیں ڈالی بلکہ طالبان کے مختلف دھڑوں میں اختلافات کی وجہ بھی آئی ایس آئی کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں شمالی وزیرستان کے حافظ گل بہادر اور بیت اللہ محسود کے ساتھ طے پانے والے اتحاد میں سب سے بڑی روکاوٹ یہ خفیہ ایجنسی ہی تھی۔
’ ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمارے درمیان اختلافات کی وجہ آئی ایس آئی اور ہمارے دشمن تھے۔ مستقبل میں اگر اب کوئی اختلاف ہوگا تو تیرہ رکنی شوری اسے حل کرے گی۔ انشا اللہ اب جہاد زیادہ تیز ہوگا‘۔
نئی امریکی انتظامات سے ان کی توقعات کے بارے میں ان کا جواب تھا کہ انہیں صرف اللہ سے توقع ہے اور ان کے مذہب کے خلاف ہے کہ کسی اور سے توقع کریں۔
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ملا نذیر نے ویڈیو کے ذریعے اپنا پیغام اور سوچ عام کرنے کی کوشش کی ہے۔ ویڈیو میں انگریزی سب ٹائٹلز کے علاوہ انگریزی میں اس کا متن بھی جاری کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
احمد زئی وزیر قبائل کے علاقے میں شدت پسندوں کے رہنما ملا نذیر کا کہنا تھا کہ ان کا ہدف صرف افغانستان یا پاکستان اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے نہیں بلکہ ان کا جہاد عالمی ہے۔ انہوں نے جمہوریت کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیراسلامی قرار دیا۔ ساتھ میں انہوں نے صدر آصف علی زرداری اور فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے کردار پر بھی تنقید کی۔ ملا نذیر نے مالاکنڈ میں نفاذ شریعت کے بارے میں کہا کہ حکومت اس میں مخلص نہیں ہے۔’یہ اس کی جنگی حکمت عملی ہے۔ وہ انہیں سیاست میں پھنسانا چاہتے ہیں۔ ہم صرف مالاکنڈ یا وزیرستان میں نہیں بلکہ تمام پاکستان میں شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں‘۔






















