اوباما کی پالیسی بش پالیسی کا تسلسل

قومی سلامتی کے بارے میں پارلیمنٹ کی کمیٹی نے پاکستان اور افغانستان کے لیے نئی امریکی پالیسی کو سابق صدر جارج بُش کی پالیسیوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔
قومی سلامتی کے بارے میں پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کا اجلاس سنیچر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رضا ربانی کی سربراہی میں ہوا جس میں پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔
اس اجلاس میں شرکت کرنے والے پارلیمنٹ کے ایک رکن نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اجلاس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈراؤن حملوں کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرے۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں کہا گیا کہ امریکہ ڈرون حملے بند نہیں کرتا تو پھر پاکستانی افواج کو اس بات کی اجازت دی جائے کہ وہ ان جاسوس طیاروں کے خلاف جوابی کارروائی کرے۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا کہ امریکہ شدت پسندی کی آڑ میں بلوچستان میں بھی حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان اور پاکستان کے بارے میں امریکی صدر کے ایلچی رچرڈ ہالبروک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کوئٹہ طالبان اور القاعدہ کا گڑھ بنا ہوا ہے۔
اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کمیٹی کے سربراہ رضا ربانی نے کہا کہ اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں طلب کیا جائے تاکہ وہ امریکی صدر اوبامہ کے پالیسی بیان پر کمیٹی کے ارکان کو بریف کریں۔
انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کے بارے میں پاکستانی عوام اور حکومت نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور یہ حملے پاکستان کی سلامتی پر حملہ ہے۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے یہ معاملہ امریکی حکومت کے ساتھ اُٹھایا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت جارحانہ خارجہ پالیسی اختیار کرتے ہوئے اپنے دوست ملکوں کو اعتماد میں لے کر امریکہ پر دباؤ ڈالے کہ وہ پاکستانی علاقوں میں ڈرون حملے بند کرے۔
ایک سوال کے جواب میں قومی سلامتی کے بارے میں پارلیمنٹ کی متفقہ کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ امریکہ خود ایک جمہوری ملک ہے اور پاکستان عوام کی آراء اور پاکستانی پارلیمنٹ کی قراردادوں کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ چند روز قبل بلوچستان کی اسمبلی نے بھی پاکستان کی سرزمین پر امریکی ڈرون حملوں کے خلاف ایک متفقہ قرارداد بھی پاس کی ہے۔
رضا ربانی کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے اگلے ایک دو اجلاس میں کمیٹی کی سفارشات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ قومی سلامتی کے بارے میں پارلیمنٹ کی کیمٹی کا ائندہ اجلاس چھ اپریل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















