طالبان سے ’تعلق‘ پر امریکہ کی تنبیہ

امریکی فوج نے متنبہ کیا ہے کہ اس کے پاس ایسے شواہد ہیں کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے عناصر طالبان کو مسلسل مدد فراہم کررہے ہیں۔
امریکی حکام نے متنبہ کیا ہے کہ یہ مدد اب ختم ہونی چاہیئے۔
امریکہ کی جوائنٹ چیف آف سٹاف کے سربراہ مائیک مولن کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بھارت اور افغانستان کے ساتھ سرحدوں پر موجود عسکریت پسندوں کے ساتھ پاکستانی فوج کے روابط ہیں۔
امریکی صدر براک اوباما نے افغانستان کی بگڑتی صورتحال سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مزید 4000 امریکی فوجی افغان آرمی اور پولیس کو تربیت اور مدد فراہم کریں گے جبکہ افغانستان کی شہری ترقی کے لیے بھی مدد فراہم کی جائے گی۔
امریکی فوج کے دو اعلٰی اہلکاروں نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ پاکستان کی آئی ایس آئی کے کچھ عناصر اور القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے درمیان روابط موجود ہیں۔
مائیک مولن نے سی این این کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’فوج کے عناصر اور طالبان کے تعلقات کے اشارے یقیناً موجود ہیں۔ اور بنیادی طور پر یہ ایک ایسی صورتحال ہے جسے تبدیل کرنا ضروری ہے ‘۔
ایک اور انٹرویو میں امریکہ کی مرکزی کمانڈ کے سربراہ ڈیوڈ پیٹریس نے کہا ہے کہ کچھ عسکریت پسند گروہوں کے قیام میں آئی ایس آیی کا ہاتھ تھا اور ان کے تعلقات اب بھی موجود ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے شواہد بھی ہیں کہ ماضی قریب میں جب عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو خطرہ لاحق تھا تو آئی ایس آئی نے انہیں پہلے ہی مطلع کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی اہم معاملہ ہے کیونکہ اگر عسکریت پسندوں اور فوجی عناصر کے درمیان تعلقات ہیں تو یہ اس اعتماد کی فضا کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے جو ہمیں پاکستان کے ساتھ قائم کرنی ہے۔
چند امریکی اہلکاروں نے اپنے نام مخفی رکھتے ہوئے نیویارک ٹائمز کو اس سلسلے کی مزید تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جنوبی افغانستان میں طالبان مہم کو مضبوط بنانے میں پاکستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی فوجی امداد کا ہاتھ ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق خفیہ آلات کے ذریعے کی جانے والی نگرانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج کے عناصر اور طالبان کے درمیان تعلق ماضی میں ظاہر کیے جانے والے خدشات سے کہیں بڑھ کر ہے۔
پاکستانی حکام کسی بھی ایسے تعلق کی تردید کرتے ہیں۔
بی بی سی کے چارلز سکینلن کا کہنا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے واشنگٹن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے والا ہے۔
جمعہ کو امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ افغانستان میں بنیاد پرست عناصر کی تعداد میں اضافہ امریکیوں اور دیگر دنیا کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
پاکستانی صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں جمہوریت کی مضبوط بنائیں گے جبکہ افغان حکومت کا کہنا ہے کہ اوباما حکومت نے یہ جان لیا ہے کہ القاعدہ کے خطرے کی بنیاد پاکستان میں ہے اور یہ ایک علاقائی مسئلہ ہے۔
اوباما نے کہا ہے کہ افغانستان کے لیے نئی حکمت عملی وضع کرنے سے پہلے فوجی کمانڈروں، سفارتکاروں، علاقائی حکومتوں، دیگر ساتھیوں، نیٹو کے اتحادیوں، این جی اوز اور دیگر امدادی اداروں سے مشورہ کیا گیا ہے۔
امریکی صدر نے صورتحال کو انتہائی سنگین انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحدی علاقے میں عسکریت پسندوں کا کنٹرول بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اس علاقے کو امریکیوں کے لیے ’دنیا کا خطرناک ترین خطہ‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکیوں کو القاعدہ سے پائے جانے والے خطرے کی بنیاد پر ہی نئی حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔ انہوں نے اپنے سننے والوں کو یاد دلایا کہ القاعدہ ہی گیارہ ستمبر کے حملوں کی ذمہ دار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ القاعدہ کو ٹارگٹ کرنا ناصرف امریکیوں کے مفاد میں ہے بلکہ اس میں پوری دنیا کا فائدہ ہے۔
اوباما نے کہا ’یہ سنگین ترین نوعیت کا بین الاقوامی سکیورٹی چیلنج ہے‘۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں القاعدہ سے نمٹنے کے لیے امریکی ’مدد‘ ضروری ہوگی۔ اوباما کا کہنا تھا ’یہ کوئی آسان کام نہیں‘۔






















