صدر کا خطاب، سکیورٹی سخت

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
صدر زرداری کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر سیکورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس جو شاہراہ دستور پر واقع ہے اور اس علاقے کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے، اس علاقے میں سیکورٹی کی تمام تر ذمہ داری رییجرز کے سپرد کر دی گئی ہے جبکہ پارلیمنٹ ہاؤس میں سیکورٹی کے تمام انتظامات کی ذمہ داری اسلام آباد پولیس کی ہوگی۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر سیکورٹی کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اسلام آباد پولیس کے سربراہ قلب عباس کی سربراہی میں جمعہ کے روز ایک اہم اجلاس ہوا جس میں خیبر میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد اسلام آباد میں سیکورٹی کے انتظامات کو غیر معمولی سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس کے علاوہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس اور دیگر اہم عمارتوں کے اردگرد سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد میں دوگنا اضافہ کردیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر داخلہ محدود کردیا گیا ہے صرف اُنہی افراد کو پارلیمنٹ کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی جن کے پاس خصوصی عوت نامے ہوں گے۔
ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے افراد کا داخلہ بھی محدود ہے اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے صرف دو سو خصوصی کارڈ جاری کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر زرداری کے گذشتہ برس پارلیمنٹ کے مشرکہ اجلاس سے خطاب کے بعد اسلام آباد میں میرئیٹ ہوٹل کے مرکزی دروازے پر ایک خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 50 سے زائد افراد ہلاک اور 60 افراد زخمی ہوگئے تھے۔
اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے سیکورٹی کے انتظامات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک نے اس واقعہ کے اگلے روز ریڈ زون میں تعینات اٹھارہ پولیس اہلکاروں کو اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا نہ کرنے پر معطل کردیا تھا۔
مشیر داخلہ رحمان ملک نے دعوی کیا تھا جس روز یہ واقعہ رونما ہوا تھا اُس روز سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے ارکان پارلیمنٹ کے اعزاز میں افظار ڈنر کا انتظام کیا گیا تھا تاہم دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر عین موقع پر اس کو دوسری جگہ منتقل کردیا گیا جبکہ ہوٹل کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اُس روز حکومتی تقریب کے لیے کوئی بکنگ نہیں تھی۔


















