پولیس سربراہ سمیت پانچ ہلاک

پولیس
،تصویر کا کیپشنلوئر دیر میں پہلے بھی قانون نافذ کرنے والوں پر حملے ہوچکے ہیں
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

صوبہ سرحد کے ضلع لوئر دیر میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پولیس سربراہ، سابقہ ناظم سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ پولیس کی بھاری علاقے میں پہنچ گئ ہے اور نامعلوم افراد کی تلاش جاری ہے۔

لوئر دیر پولیس کے ایک اہلکار گل بہادر نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر مقام تیمرگرہ کے علاقے بلامبٹ میں اتوار کو شام چھ کے بعد نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے پولیس سربراہ خورشید خان، سابقہ ناظم عالمزیب خان سیمت پانچ افراد کو اس وقت ہلاک کردیا جب وہ ایشڑی کے علاقے میں ایک مغوی کو چھڑوانے جارہے تھے۔

پولیس اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ڈی پی او خورشید کے دو محافظ بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ نامعلوم افراد پیدل بھاگ نکلے ہیں۔اور اس واقعہ کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی ہے۔

ایک مقامی صحافی زاہد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعہ کے بعد نامعلوم شدت پسندوں نے علاقے کے دو ڈی ایس پی کو بھی یرغمال بنا لیا ہے۔لیکن پولیس نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

مقامی صحافی کا کہناتھا کہ اس واقعہ سے پہلے ایک بینک مینیجر شیعب خان کو نامعلوم شدت پسندوں نے اغواء کیا تھا اس کے بعد سابقہ ناظم عالمزیب نے ان کا پیچھا کیا لیکن ان پربلامبٹ کے علاقے میں فائرنگ کر کے ہلاک کردیا گیا۔ اس کے بعد جب پولیس سربراہ بلامبٹ کے علاقے میں پہنچے تو ان کو بھی نشانہ بنایا۔

یادرہے کہ لوئر دیر میں پہلے بھی قانون نافذ کرنے والوں پر حملے ہوچکے ہیں جس کے نتیجہ میں سرکاری اہلکاروں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔