ہر گچھا زخمایا

- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
نائن الیون سے پہلے پاکستان میں دہشت گردی کی نوعیت بنیادی طور پر نسلی اور فرقہ وارانہ نوعیت کی تھی اور بنیادی ہتھیار کلاشنکوف تھا۔ لیکن جب نائن الیون کے بعد ہم القاعدہ - طالبان دور میں داخل ہوئے تو دہشت گردی کے ہتھیاروں میں خودکش بمباروں کا بھی اضافہ ہوگیا۔
پھر یہ رجحان اتنا بڑھا کہ صوبہ سرحد اور شمالی پنجاب میں پچھلے پانچ برس کے دوران بالعموم اور لال مسجد اسلام آباد کے واقعہ کے بعد بالخصوص دہشت گردی کی جتنی وارداتیں ہوئیں ان میں اسی فیصد کے لگ بھگ خودکش بمباروں نے کار بم، ٹرک بم اور انسانی بم کی شکل میں کیں۔اور پھر یہ وبا شمالی پنجاب سے ہوتی ہوئی وسطی اور جنوبی علاقوں تک پہنچ گئی۔
لاہور میں گذشتہ برس تیرہ مئی کو وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے کثیر المنزلہ دفتر پر حملہ ہو یا چھ اکتوبر کو مغربی پنجاب کے ضلع بھکر میں مسلم لیگ نواز کے ایم این اے رشید اکبر نوانی کے ڈیرے پر حملہ یا پھر نو اکتوبر کو پولیس لائنز اسلام آباد پر حملہ، ان سب میں جو بھی بھاری جانی نقصان ہوا وہ خود کش حملوں کے سبب ہوا۔
لیکن اس سال سات فروری کو پنجاب کے شہر میانوالی میں قدرت آباد پولیس چیک پوسٹ پر فائرنگ اور بموں کے استعمال سے آٹھ پولیس والوں کی ہلاکت نے دہشت گردی کے ایک نئے پیٹرن کا پتہ دیا۔ یعنی دہشت گردی خودکش حملے کے ساتھ ساتھ بھاری اور ہلکے ہتھیاروں اور دستی بموں کے کمانڈو سٹائل استعمال کا مرکب بننے لگی۔
اس تبدیلی کا سب سے بڑا مظہر تین مارچ کو لاہور میں دن دھاڑے سری لنکا کی ٹیم پر دستی بموں، راکٹوں اور کلاشنکوفوں سے حملہ تھا۔ تقریباً درجن بھر حملہ آوروں نے تیس منٹ تک کارروائی جاری رکھی۔ اور پھر اطمینان سے اپنا اسلحہ و بارود چھوڑ کر غائب ہوگئے۔
اس تناظر میں اگر خود کش بمباری کا طریقہ القاعدہ - طالبان سٹائل سمجھا جائے تو پھر کمانڈو طرز کی دہشت گردی کو اِنڈو۔جہادی پیٹرن کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ سری لنکا کی ٹیم پر حملہ ہو یا لاہور میں مناواں پولیس ٹریننگ سینٹر پر تیس مارچ کا حملہ دونوں کا انداز کم و بیش وہی ہے جس کا آغاز بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے ہوا۔
سنہ نوے کے عشرے میں کشمیر میں بھارت کے فوجی و نیم فوجی مراکز پر فدائین حملوں کا آغاز ہوا۔ یعنی دو سے بارہ تک شدت پسند کسی اہم عمارت یا مرکز میں گھس کر اس وقت تک لڑتے رہتے تھے جب تک مرنہ جائیں۔
اس طرح کے بڑے حملوں میں تین نومبر انیس سو ننانوے کا وہ حملہ بھی ہے جب دو فدائی سری نگر میں بھارت کی پندرہ کور کے فوجی ہیڈ کوارٹر میں گرینیڈز اور کلاشنکوفیں لے کر گھس گئے۔ اس آپریشن میں چھ فوجی ہلاک ہوئے اور فدائین خود بھی مارے گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

سولہ جنوری دو ہزار ایک کو فوجی یونیفارم میں چھ شدت پسند ایک اغوا شدہ سرکاری جیپ میں بیٹھ کر سری نگر ائرپورٹ میں گھس گئے۔ اس مہم میں حملہ آوروں سمیت گیارہ افراد ہلاک ہوئے۔
تیرہ دسمبر دو ہزار ایک کو دلی میں انڈین پارلیمنٹ کے احاطے میں اسی طرح کا کمانڈو ایکشن کیا گیا جس میں حملہ آوروں سمیت بارہ افراد ہلاک ہوگئے۔ پانچ اکتوبر دو ہزار چھ کو سری نگر میں سنٹرل ریزرو پولیس کے ہیڈ کوارٹر پر گرینڈز اور رائفلوں سے مسلح افراد نے حملہ کرکے تین پولیس والوں کو ہلاک اور دس کو زخمی کردیا۔حملہ آور فرار ہوگئے۔چھبیس نومبر دو ہزار آٹھ کو ممبئی میں ایک ٹرین ٹرمینل، دو ہوٹلوں اور ایک نجی مرکز پر درجن بھر لوگوں نے کمانڈو ایکشن کرکے ڈیڑھ سو سے زائد افراد کو ہلاک کردیا۔
اس طرح کے فدائی حملوں کی ذمہ داری کبھی لشکرِ طیبہ نے قبول کی کبھی جیشِ محمد نے کبھی حزب المجاہدین نے تو کبھی نامعلوم یا نووارد مجاہدین نے۔
ان جہادی گروہوں پر فروری دو ہزار دو میں مشرف حکومت نے پابندی لگادی لیکن اس کے بعد بھی ان کا نیٹ ورک برقرار رہا۔ ان میں سے کچھ نئے ناموں سے ابھر آئے تو دیگر زیرِ زمین گروہوں کے اتحادی بن گئے یا ان میں ضم ہوگئے۔
اب اگر اس طرح کے زیرِ زمین کمانڈو ایکشن کے عادی گروہوں اور خودکش بمباری کے حامیوں میں ایک وسیع تر مقصد کو اپنے اپنے انداز میں آگے بڑھانے کے لیے کوئی اتحاد ہو چکا ہے تو پاکستانی سیکورٹی ایسٹیبلشمنٹ کے لیے اس سے زیادہ بری خبر نہیں ہوسکتی۔
میاں محمد بخش نے بہت بہت پہلے پاکستانی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کو یہ کہہ کر خبردار کرنے کی کوشش کی تھی کہ
کِکر تے انگور چڑھایا، ہر گچھا زخمایا
لیکن اب پشتاوے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت!






















