فوجی قافلے پر حملہ، تین ہلاک

- مصنف, دلاور خان وزیر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
پاکستان کے نیم قبائلی علاقے بکا خیل میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک فوجی قافلے پر ہونے والے ریموٹ کنٹرول بم حملے میں تین فوجی ہلاک جبکہ سات زخمی ہوگئے ہیں۔ وانا میں ایک مقامی صحافی کے چچازاد بھائی کو امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام ہلاک کردیا ہے۔
پاکستانی فوج کے ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کو بنوں سے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ جانے والے ایک فوجی قافلے پر نیم قبائلی علاقے بکا خیل میں ایک ریموٹ کنٹرول بم حملہ ہوا۔جس کے نتیجہ میں تین فوجی اہلکار ہلاک جبکہ سات زخمی ہوگئے ہیں۔
ان کے بقول حملے میں چار فوجی اہلکار اور تین رزمک کے اسٹینٹ پولیٹکل ایجنٹ کے محافظ شامل ہیں۔
تاہم پولٹیکل انتظامیہ کے ایک تحصیلدار کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کے بعد سکیورٹی فورس نے بنوں، میرانشاہ شاہراہ کو ہرقسم کے ٹریفک کے لیے بند کردیا ہے کسی کو آنے جانے اجازت نہیں ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مرنے والے اہلکاروں کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ جس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ سکیورٹی اہلکاروں سے بھری تھی۔
فوجی اہلکار نے مزید کہا کہ حملے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے شدید فائرنگ کی جس کے بعد انہوں نے علاقے کو محاصرے میں لے لیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ خودکش حملہ نہیں تھا بلکہ سڑک کے کنارے پہلے سے موجود ایک خالی گاڑی میں ریموٹ بم سے دھماکہ کیا جس کے نتیجے میں فوجی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
اس کے علاوہ ادھر وانا میں ایک سینیئر صحافی مجیب الرحمن کے چچازاد بھائی کو امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں ہلاک کردیا ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق ان کی لاش وانا بازار کے مغربی حصے میں ایک کھلے میدان سے ملی ہے۔ لاش کےساتھ سی ڈی اور ایک خط بھی ملا ہے جس میں بتایاگیا ہے کہ محمد شیبر امریکہ کے لیے جاسوسی کا کام کرتا تھا جو بھی امریکہ کے لیے جاسوسی کا کام کرےگا ان کا یہ ہی حشر ہوگا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ لاش کےساتھ پڑی سی ڈی میں انہوں نے خود انکشاف کیا ہے کہ وہ واقع امریکہ کے لیے جاسوسی کرتا تھا۔ سی ڈی میں انہوں بتایا ہے کہ وہ ہر وقت نشے کی حالت میں رہتا تھا اس لیے ان سے غلطی ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی لوگوں کے مطابق محمد بشیر کو نامعلوم نقاب پوشوں نے دو ہفتے پہلے وانا کے نوحی علاقے ڈوگ سے اغواء کیا تھا۔ اگرچہ شمالی وزیرستان میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان امن معاہدہ موجود ہے لیکن حالیہ دنوں میں علاقے میں سرحد پار سے ہونے والے مبینہ امریکی میزائل حملوں میں اضافہ کے بعد عسکریت پسندوں میں غم و غصہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کچھ عرصے سے دوبارہ سکیورٹی فورسز پر حملے شروع کر دیئے ہیں۔






















