’چیچن ملوث ہو سکتے ہیں‘

پولیس کے اہلکار حملے میں استعمال ہونے والے گرنیڈ دکھا رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپولیس کے اہلکار حملے میں استعمال ہونے والے گرنیڈ دکھا رہے ہیں۔
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور میں مناواں پولیس کے تربیتی مرکز پر شدت پسندوں کی کارروائی چیچنیا کے شدت پسندوں کی کارروائی کی عکاسی کرتی ہے اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ اس کارروائی میں حصہ لینے والے شدت پسندوں کو غیر ملکی شدت پسندوں نے تربیت دی ہو۔

حال ہی میں قائم ہونے والے ادارے انسداد دہشت گردی اتھارٹی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کےتجربے میں یہ بات آئی ہے کہ شدت پسند اس طرح کی کارروائی اداروں کی ہمت پست کرنے کے لیے کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چیچن شدت پسندوں نے چند سال قبل روس میں ایک سکول کے بچوں کو یرغمال بنا لیا تھا تاہم روس کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اُن کے خلاف آپریشن کرکے اُنہیں ہلاک کردیا تھا اس کارروائی میں سکول کے متعدد بچے بھی ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ چیچن باشندوں نے ایک تھیٹر میں موجود افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

اس اہلکار کا کہنا تھا کہ خفیہ اداروں نے اُنہیں اطلاع دی ہے کہ متعدد چیچن باشندے جو پہلے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں چھپے ہوئے تھے وہاں پر فوجی کارروائی کے بعد وہاں سے نکل کر ملک کے دوسروں حصوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

سابق وزیر داخلہ لیفٹنینٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں پولیس کے تربیتی مرکز پر حملہ کسی بدلے کا عنصر تو نہیں لگتا البتہ اس کا مقصد ملک اور اداروں میں عدم استحکام لانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں وہی لوگ ملوث ہیں جو ممبئی حملوں، لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر ہونے والے حملوں میں ملوث تھے۔

انہوں نے کہا کہ خودکش حملوں میں زیادہ تر بدلہ لینے کے لیے کیے جاتے ہیں جبکہ یرغمال بنانے کی کارروائی سرکاری اداروں کی خامیوں سے فائدہ اُٹھانے کے لیے کی جاتی ہیں۔

وزارت داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ شدت پسندوں نے مناواں پولیس ٹریننگ سینٹر میں ہونے والی سرگرمیوں کافی عرصے سے نگرانی کر رہے تھے اور اس ضمن میں تمام اطلاعات حاصل کرنے کے بعد شدت پسندوں نے یہ کارروائی کی ہے۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق پولیس کے کسی بھی تربیتی مرکز میں اسلحہ نہیں ہوتا بلکہ وہاں پر تو زیرِ تربیت پولیس اہلکاروں کو چھڑی رکھنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی۔

ذرائع کے مطابق پولیس کے کسی بھی تربیتی مرکز میں ایک پلاٹون میں 30سے35 پولیس اہلکار ہوتے ہیں جبکہ ان کو تربیت دینے والے اسلحہ صرف ڈرل انسپکٹر کے پاس ہوتا ہے اور زیر تربیت پولیس اہلکاروں کو جعلی اسلحہ فراہم کیا جاتا ہے۔

ان تربیتی مراکز میں صبح چھ سے ساڑھے چھ بجے تک جسمانی تربیت دی جاتی ہے اور پھر اس کے بعد پریڈ ہوتی ہے۔

ذرائع نے اس امکان کو مسترد کردیا کہ شدت پسندوں نے ایک دو روز پہلے اس تربیتی مرکز میں پناہ لے رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دن میں تین مرتبہ زیر تربیت افراد کی گنتی کی جاتی ہے اس لیے وہ وقوعہ کے دن ہی اس تربیتی مرکز میں داخل ہوگئے تھے۔

گزشتہ کچھ عرصے کے دوران پولیس کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے سرگودھا، کوہاٹ اور اسلام آباد میں تربیتی مراکز کو شدت پسندوں نے نشانہ بنایا ہے۔ پولیس ان حملوں کی تحقیقات کر رہی ہے تاہم ان حملوں میں ملوث ملزمان کا سراغ ابھی تک نہیں ملا۔ داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک نے غفلت برتنے پر تین پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کرنےکے احکامات دیئے تھے۔

گزشتہ برس سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود اسلام آباد پولیس لائنز ہیڈکوراٹر میں شدت پسندوں نے انسداد دہشت گردی سکواڈ کے دفتر کو نشانہ بنایا تھا اس کے علاوہ لال مسجد کے قریب اُس وقت پولیس اہلکاروں کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا جب لال مسجد آپریشن کی پہلی برسی کے موقع پر ہونے والا اجتماع ختم ہونے کے بعد پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹیاں ختم کرکے واپس جا رہے تھے۔

لاہور میں مناواں پولیس کے تربیتی مرکز پر شدت پسندوں کی کارروائی کے بعد اسلام آباد میں سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کردیئے گئے ہیں اور بلخصوص پولیس اسٹیشنوں کے باہر رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ تھانوں کے مرکزی دورازے بند کردیئے گئے ہیں اور کسی کو بھی تھانے کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی جس کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ متعلقہ تھانوں کے پولیس افسران نے تھانوں کے مرکزی دروازوں پر مسلح پولیس اہلکاروں کو تعینات کرنے کے علاوہ وہاں پر ایک سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار کو بھی تعینات کیا ہے جو لوگوں سے درخواستیں وصول کرتے ہیں۔