لاہور، پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ، گیارہ ہلاک

Image
    • مصنف, بیورو رپورٹ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

لاہور کے نواحی علاقے مناواں میں پولیس کے ٹریننگ سینٹر پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کرنے کے بعد وہاں موجود افراد کو یرغمال بنا لیا ہے۔عمارت سے نکلنے والے ایک پولیس اہلکار کے مطابق گیارہ کے قریب پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں اور کم از کم سو کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

<link type="page"><caption> تربیتی مرکز پر حملے کی ویڈیو </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/mediaselector/check/urdu/meta/dps/2009/03/090330_manawan_attack_as?nbram=1&nbwm=1&bbram=1&bbwm=1&size=16x9&lang=en-ws&bgc=003399" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> پولیس سینٹر پر حملہ: تصویروں میں </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/03/090330_lahore_pics.shtml" platform="highweb"/></link>

آئی جی پنجاب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک پولیس نے ایک مشتبہ دہشت گرد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ٹریننگ سنیٹر سے فائرنگ اور دھماکوں کی آواز سنائی دے رہی ہیں۔ رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے ٹریننگ سینٹر کو گھیرے میں لے لیا ہے اور وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری طرف ایک مقامی ٹیلی ویژن چینل کے مطابق کم سے کم بائیس لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے لاہور پولیس ٹریننگ سنٹر پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو واقعہ کی فوری تحقیقات اور چوبیس گھٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا ہے۔

مشیر داخلہ رحمن ملک اور گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے پولیس کے تربیتی مرکز مناواں میں مسلح حملہ آوروں کے داخلے اور سکول پر حملہ میں درجنوں پولیس اہلکاروں کے ہلاک و زخمی ہونے کے واقعہ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے اس واقع کی فوری تحقیقات کا حکم دیدیا ہے اور چوبیس گھنٹے کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ادھر لاہور میں موجود صدر اور دیگر اعلی اہلکار حملے کی لمحہ بہ لمحہ معلومات حاصل کر رہے ہیں۔

لاہور میں ہماری نامہ نگار منا رانا نے بتایا کہ گُھرکی ہسپتال میں جو پولیس کے تربیتی سینٹر کے سب سے نزدیک ہے ابھی تک بیالیس زخمی لائے گئے جن میں سے گیارہ شدید زخمی ہیں۔ جبکہ میو ہسپتال میں تیئس زخمی لائے گئے جن میں سے چھ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

اسی طرح گنگا رام میں انیس زخمی لائے گئے اور سروسز ہسپتال میں چوبیس زخمی لائے گئے تھے۔

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے ابھی تک سات ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ حملہ آوروں پر قابو پانے کے لیے فوج کی ایک بریگیڈ مناواں پولیس ٹریننگ سینٹر کے ارد گرد تعینات کردی گئی ہے۔

سروسز ہسپتال کے دورے کے بعد گورنر پنجاب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج کی بریگیڈ کے علاوہ رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری بھی موقع پر موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ چار نقاب پوش افراد پولیس ٹریننگ سینٹر میں داخل ہوئے اور وہ سادہ لباس میں ملبوس تھے اور ان کے ساتھی شاید پہلے ہی اندر موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ معلومات کے مطابق اس وقت آٹھ سے دس حملہ آور سینٹر کے اندر موجود ہیں جو کہ مکمل طور پر مسلح ہیں۔

یہ ٹریننگ سنیٹر جی ٹی روڈ پر لاہور سے کوئی بیس کلومیٹر واہگہ کی جانب واقع ہے اورصبح تقریباً پونے سات بجے چند مسلح افراد نے اس وقت حملہ کیا جب وہاں پولیس اہلکار تربیت لے رہے تھے۔عینی شاہدوں کےمطابق پہلے دھماکے اور پھر فائرنگ کی آوازیں سنائی دی گئیں۔

پاکستان کے ایک مقامی ٹی وی چینل ایکسپریس نے چند ایسے مناظر دکھائے ہیں جن میں آٹھ کے قریب پولیس اہلکاروں کو کھلے میدان میں بے حس و حرکت پڑے دکھایا گیا ہے جبکہ تین دیگر اہلکار زمین پر رینگ کر ان کی جانب جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مناواں حملہ
،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق صبح پریڈ کے وقت دہشتگردوں نے اس وقت حملہ کیا جب پولیس والے بغیر ہتھیاروں کے تھے

سروسز ہسپتال میں چھ پولیس اہلکاروں کو داخل کرایا گیا ہے۔انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ یہ حملہ چھ سے سات ایسے شدت پسندوں نے کیا جنہوں نے پولیس کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس وقت تک ٹریننگ سینٹر کے گارڈز کے سوا کسی کے پاس اسلحہ نہیں تھا۔شدت پسندوں نے زیر تربیت غیر مسلح پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ کم از کم چھ ہلکے دھماکوں کی آواز بھی سنی گئیں جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ دستی بم چلائے جانے کی آواز ہوسکتی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابھی بھی شدت پسند ٹریننگ سنیٹر کے اندر موجود ہیں اور وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں آ رہی ہیں۔رینجرز کے علاوہ پولیس کی ایک بکتر بند گاڑی اور ایلیٹ فورس کے جوان موقع پر پہنچ چکے ہیں۔اس سینٹر کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی موقع پر موجود ہے اور وہ پولیس اہلکاروں کے کہنے کے باوجود جگہ خالی نہیں کر رہے۔

حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد میاں محمد نوازشریف اور مرکزی صدر اور سابق وزیر اعلی پنجاب میاں محمدشہبازشریف نے پولیس مرکز پر حملے کے نتیجہ میں کئی پولیس اہلکاروں کے ہلاک و زخمی ہونے کے واقعہ پر گہرے افسوس کااظہار کیا ہے ۔

چوہدری شجاعت حسین، پرویز الٰہی، منور حسن اور عمران خان نے بھی ہلاک اور زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے۔

لاہور میں اسی مہینے کے شروع میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر پندرہ کے قریب شدت پسندوں نے راکٹ لانچر اور فائرنگ کے ذریعے دن دہاڑے حملہ کیا تھا۔اس حملے میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کے کارکن تو زخمی ہوئے تھے جبکہ متعدد پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

اس حملے کے بعد شدت پسند فرار ہوگئے تھے اور پولیس ابھی تک ان میں سے کسی کو بھی گرفتار نہیں کر سکی ہے۔ سیکیورٹی فورسز چاہتی ہیں کہ حملہ آوروں میں سے چند ایک کو زندہ گرفتار کیا جاسکے تاکہ پورے نیٹ ورک کو پکڑا جا سکے۔