شدت پسندوں کا ہدف بدل گیا

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان میں سیکیورٹی فورسز خصوصاً فوج پر حملوں کے بعد اب بظاہر شدت پسندوں نے پولیس کو تواتر سے نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ کیا پولیس آسان ہدف ہے یا یہ ملک کے سیکیورٹی نظام کی بنیاد یعنی پولیس کو کمزور کرنے کی سازش ہے؟
گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کا جو جن بوتل سے نکلا ہے اس کے بعد ابتداء میں ملک کے قبائلی علاقوں میں جو بھی جان لیوا جھڑپیں یا حملے ہوتے تھے ان کا ہدف ہمیشہ فوج یا نیم فوجی ملیشیا فرنٹئر کور تھی، پولیس نہیں تھی۔ تاہم خاصہ دار بھی کبھی کبھی ان کا نشانہ بن جاتے تھے۔
پھر دہشت گردی کی لہر قبائلی علاقوں سے نکلی اور شدت پسندوں نے اپنی سہولت کے لیے میدان جنگ کو وسعت دینا شروع کی۔ پھر بندوبستی علاقوں میں اپنا غصہ اتارنے کے لیے پہلے سے کمزور، غیرتربیت یافتہ اور مناسب اسلحہ نہ رکھنے والی پولیس فورس کی شامت آنا شروع ہوئی۔ ٹانک اور وزیرستان میں ابتدائی دنوں میں پولیس موبائل فورس پر خودکش حملے اسی سلسلے کی کڑی تھے۔
اس موقع پر صرف قبائلی علاقوں کے شدت پسندوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ نہیں دھوئے بلکہ پنجاب میں فرقہ واریت میں ملوث کالعدم تنظیموں نے بھی ان پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانا شروع کیا جو محرم کی ڈیوٹی پر تعینات تھے۔ قبائلی علاقوں اور جنوبی پنجاب کے ان شدت پسندوں کی سوچ فرقہ ورایت کے اعتبار سے ایک تھی لہذا جو بھی ان کے راستے میں آیا نشانہ بنا۔
پھر صوبے سرحد کے ضلع سوات میں شدت پسندی کی آگ لگی۔ وہاں پولیس کو چونکہ مسلح بغاوت سے نمٹنے کی تربیت حاصل نہیں تھی لہذا وہ کافی زیادہ تعداد میں ہونے کے باوجود شدت پسندوں کا مقابلہ نہیں کرسکی۔ شدت پسندوں نے بھی جی بھر کے انہیں اتنا نشانہ بنایا کہ وہ یا تو ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہوئے یا پھر ایک ایک کرکے انہوں نے مستعفی ہونے میں عافیت سمجھی۔ سوات پولیس کو اتنا مجبور کیا گیا کہ وہ اپنی فورس سے لاتعلقی کے اشتہار شائع کروانے پر مجبور ہوئی۔
پولیس والوں کو تو نشانہ بنایا ہی گیا ساتھ میں ان کے جنازوں میں شریک سوگواران کو بھی نہیں بخشا گیا۔ پولیس والے یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ وہ صرف جرائم کی بیخ کنی کے لیے تریبت یافتہ ہیں دہشت گردی کے لیے نہیں۔ حکومت اس تمام صورتحال میں بےبس دکھائی دی۔شدت پسندی کی اس لہر نے ایک سال سے کچھ زیادہ عرصے میں پولیس کوگھٹنوں پر ٹیکنے میں مجبور کر دیا۔
اب سوات اور اکثر قبائلی علاقوں میں قدرے امن کی بحالی کے بعد بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ شدت پسندوں نے ملک کی سطح پر ’فرسٹ لائن اور ڈیفنس‘ کو کھوکھلا کرنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اور ان کو اسی میں کامیابی دکھائی دے رہی ہے۔
اگرچہ سال دو ہزار سات فوج پر کافی بھاری گزرا کہ اس وقت صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں فوج کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا۔ لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید جب فوج نے زیادہ احتیاط سے کام لینا شروع کیا تو وہ آسان ہدف نہیں رہی۔ سیاسی طور پر بھی اگرچہ فوج پس منظر میں ہے لیکن اب اس نے کلیدی کردار ترک کرنے کا تاثر دیا ہے جس کی وجہ سے اب شدت پسند پولیس کو ٹارگٹ کرنے پر مجبور ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسلام آباد میں پولیس کی سپیشل برانچ کا دفتر ہو یا لاہور میں سڑک کنارے ڈیوٹی پر معمور پولیس اہلکار وہ یقینا آسان ہدف ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کہتے ہیں کہ حکومت کو پولیس کی بہتر تربیت اور اسے جدید ہھتیاروں سے لیس کرنے پر فوری توجہ دینا ہوگی۔
آج بھی سب سے پہلے لاہور کے تربیتی مرکز کے باہر پہنچنے والے پولیس اہلکاروں میں کسی کے پاس نہ تو بلٹ پروف جیکٹ تھی اور نہ ہی ہیلمٹ۔ پولیس کمانڈوز یقینا پوری طرح تیار آئے لیکن پولیس پر بار بار حملوں کے بعد تو حکومت کو ہر پولیس اہلکار کی سکیورٹی کا سوچنا چاہیے تھا۔ سکیورٹی کے ماہرین کہتے ہیں ان کی مناسب حفاظت یقینی نہ بنائی گئی تو سوات والی صورتحال کا ملک بھر تک پھیلنا کوئی زیادہ دور نہیں۔






















