’انسدادِ دہشت گردی فورس مضبوط تر‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستانی حکومت نے ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور شدت پسندی کی وارداتوں کو روکنے کے لیے پولیس کے انسداد دہشت گردی سکواڈ کی استعداد کار کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں کی پولیس کے سربراہوں سے اس ضمن میں تجاویز طلب کی گئی ہیں۔
وزارت داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ضمن میں سیکرٹری داخلہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو صوبوں کی پولیس کے سربراہوں سے تجاویز طلب کرکے ایک حمتی رپورٹ تیار کرے گی۔ پولیس ریسرچ بیورو سے بھی اس حوالے سے تجاویز طلب کی گئی ہیں۔
کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں مقیم اُن ترقی یافتہ ملکوں کے سفارت کاروں سے رابطہ کریں جنہوں نے پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تربیت دینے کی پیشکش کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے چاروں صوبوں کی پولیس میں ایک لاکھ کے قریب نئی بھرتی کے منصوبے میں یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ ان میں سے 30 فیصد عملے کو انسداد دہشت گردی سکواڈ میں شامل کیا جائے۔
واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی سکواڈ سب سے پہلے پنجاب پولیس میں تشکیل دیا گیا جس کا مقصد دہشت گردی کی وارداتوں کو روکنا اور خفیہ اداروں کی اطلاعات کی روشنی میں شدت پسندوں کو گرفتار کرنا ہے۔
اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر صوبوں کی پولیس میں بھی ایسے ہی سکواڈ تشکیل دیئے گئے تاہم اس سکواڈ کا ذیادہ تر عملہ وزارء، مشیروں اور اہم شخصیات کی حفاظت پر تعینات ہوگیا جس کی وجہ سے وہ یہ سکواڈ وہ امور سرانجام نہیں دے سکا جس کے لیے اُس کی تشکیل کی گئی تھی۔
پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی سکواڈ اب نہ ہونے کے برابر ہے اور اس ضمن میں وزارت داخلہ نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو ہدایات جاری کی ہے کہ ملکی کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر اس سکواڈ کی تعداد میں اضافہ کریں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کیٹی کو یہ ٹاسک بھی دیا گیا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ایک جامع پلان بھی مرتب کریں جس کو حال ہی میں قائم ہونے والے فورم فرینڈز اف پاکستان کے اس ماہ جاپان میں ہونے والے اجلاس میں پیش کیا جائے گا اور اس فورم میں شامل ملکوں سے کہا جائے گا کہ وہ دہشت گردی اور شدت پاسندی کے خلاف برسرپیکار پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداورں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے ان اداروں کو جدید اسلحہ اور دوسرا سامان فراہم کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ پاکستانی پولیس اہلکار شدت پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اتنی پیشہ وارانہ مہارت نہیں رکھتے۔ حکومت اہم سرکاری عمارتوں کو محفوظ بنانے اور گاڑیوں میں دھماکہ خیز مواد کی نشاندہی کے لیے جدید آلات خریدنے کے حوالے سے چین سمیت مخلتف ملکوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کی اس کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی انشورنس کے معاملے کو حتمی شکل دیں تاکہ اس ضمن میں رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کی جاسکے۔






















