ڈرون حملے: کیا ہنوز بلوچستان دور است؟

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
پاکستان کی سرزمین پر ایک اور ڈرون حملہ ہوا ہے اور حملوں کی زد میں رہنے والے علاقوں میں ایک اور قبائلی ایجنسی کا اضافہ ہوا۔ جب اٹھارہ جون دو ہزار چار میں جنوبی وزیرستان میں طالبان کمانڈر نیک محمد وزیر کو پہلی مرتبہ ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا تو شاید کسی کو خیال نہیں آیا تھا کہ ان حملوں کا دائرہ وقت کے ساتھ ساتھ وسیع سے وسیع تر ہوتا جائے گا۔
لیکن آج تقریباً پانچ سال بعد سوائے خیبر ایجنسی کے ساتوں قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد کے ضلع بنوں کے نیم قبائلی علاقے کو امریکی جاسوسی طیاروں سے داغے گئے میزائل حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
براک اوباما کی حکومت بش انتظامیہ کے مقابلے میں ایک قدم اور آگے جاتے ہوئے بلوچستان تک بھی ان حملوں کو وسعت دینے کی بات کی ہے۔
میں نے حال ہی میں دس دن بلوچستان میں گزارے۔ ضلع ژوب سے کوئٹہ تک کےسفرمیں لوگوں سے گفتگو کے دوران اگر ایک بات بار بار سنی تو وہ بلوچستان پر ممکنہ ڈرون حملوں کی تھی۔
لوگوں میں بہت زیادہ خوف پایا جاتا تھا۔ اخبارات میں زیادہ تر خبریں ڈرون حملوں سے متعلق تھیں۔ مذہبی، سیاسی جماعتیں اس حوالے سے مہم چلانے میں مصروف تھیں جبکہ بائیں بازو کی جماعتیں محض اخباری بیانات کے ذریعے ہی اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ طالبان یا غیر ملکی وہاں موجود نہیں ہیں۔
مذہبی جماعتوں میں جمیعت علماء اسلام فضل الرحمن کے صوبائی امیر مولانا محمد خان شیرانی نے اس حوالے سے جلسوں کا ایک سلسلہ شروع کردیا تھا جبکہ ان کی پارٹی سے علیحدہ ہونے والے دھڑے جمعیت علماء اسلام نظریاتی بھی مختلف پشتون علاقوں میں مظاہرے کرنے میں مصروف تھی۔
حیرت کی بات یہ تھی کہ مبینہ خود کش حملے میں محفوظ رہنے والے جمعت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا شیرانی انتہائی سخت سکیورٹی میں جلسوں سے خطاب کیا کرتے تھے۔
جمعیت علماء اسلام نظریاتی کو افغانستان اور پاکستان میں طالبان حامی سمجھا جاتا ہے اور انہوں نے اسی لیے اپنا الگ دھڑا بنایا کہ جمعیت علماء اسلام فضل الرحمٰن کے قائدین ’جہاد‘ کے راستے سے بھٹک چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلوچستان کے وزیراعلٰی، صوبائی وزراء اور سیاسی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ بلوچستان میں طالبان اور غیر ملکی نہیں ہیں مگر امریکہ کے پاکستان اور افغانستان کے لے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک کا دعویٰ ہے کہ ’کوئٹہ طالبان اور القاعدہ کا ہیڈ کوراٹر بنتا جارہا ہے‘۔
اگرچہ بلوچستان میں ابھی تک قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد کی طرح مقامی طالبان کا ظہور نہیں ہوا ہے لیکن حقیقت کا حال جاننے والے کہتے ہیں بلوچستان کے پشتون علاقے اس حوالے سے بارود کا ڈھیر بن چکے ہیں اور کوئی ایک بھی ڈرون حملہ آگ بھڑکا سکتا ہے۔
دلیل کے طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ ماضی میں شدت پسندی کے کچھ ایسے واقعات ہوئے ہیں جس کا طریقہ کار طالبان کی کارروائیوں سے ملتا جلتا ہے۔
اس نوع کا پہلا حملہ جولائی دہ ہزار چار میں ضلع قلہ سیف اللہ کے علاقے گوال حیدرزئی میں جے یو آئی کے صوبائی امیر مولانا محمد خان شیرانی پر ہوا جب افغانستان میں لڑنے والے دو مقامی طالبان نے مولانا شیرانی کی گاڑی کو ریموٹ حملے کا نشانہ بنایا جس میں وہ محفوظ رہے تھے۔
اس واقعے کے تقریباً تین سال بعد جولائی دو ہزار سات میں جنوبی وزیرستان میں طالبان کمانڈر عبداللہ محسود کو ضلع ژوب میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک کردیا گیا۔ان کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ افغانستان میں لڑنے کے بعد ژوب کے راستے جنوبی وزیرستان واپس جارہے تھے کہ ژوب میں ایک گھر میں رات کے قیام کے دوران انہیں سکیورٹی فورسز نے نشانہ بنایا۔
افغانستان میں قتل ہونے والے طالبان کمانڈر ملا داد اللہ کے بھائی منصور داد اللہ کو بھی پچھلے سال فروری میں ضلع قلعہ سیف اللہ کے گوال اسماعیل زئی میں اپنے بھائی کے گھر پر پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران گرفتار کیا تھا۔
ستمبر دو ہزار سات میں بھی قلعہ سیف اللہ کے ایک مدرسے میں بم دھماکہ ہوا تھا جس کے بارے میں حکام کا کہنا تھا کہ بعض افراد مبینہ طور پر بم بنانے میں مصروف تھے کہ اس دوران دھماکہ ہوا۔
اسی قسم کا ایک اور واقعہ کوئٹہ سے تقریباً آٹھ کلومیٹر دور بلیلی میں واقع آغا جان نامی مدرسے میں ہوا جس میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے بعض غیر مقامی بتائے گئے تھے۔
اس کے علاوہ بلوچستان کے بعض علاقوں میں طالبان طرز کے کچھ ایسے چھوٹے موٹے واقعات اب وقتاً فوقتاً رونما ہورہے ہیں جس نے مقامی لوگوں کو مزید خوفزدہ کردیا ہے۔ جیسے کوئٹہ میں سی ڈی کی دکانوں کو اڑانا، ضلع ژوب میں ایک عیسائی خاتون کو مبینہ طور پر جسم فروشی میں ملوث ہونے کے الزام میں قتل کرنا، لورالائی میں تحریکِ طالبان پاکستان کے نام سے پمفلٹ چسپاں کرنا شامل ہیں۔ پمفلٹ میں این جی اوز پر پابندی اور فحاشی عریانی ترک کرنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔
بلوچستان میں ہونے والے ان واقعات نے بظاہر امریکی حکام کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی اور انہوں نے اب واضح طور پر یہ الزام لگانا شروع کردیا کہ کوئٹہ طالبان اور القاعدہ کا ہیڈ کوارٹر بنتا جارہا ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے بھی کئی بار الزام لگایا ہے کہ طالبان سربراہ ملا عمر کوئٹہ میں ہی موجود ہیں۔
امریکی حکام نے پہلی مرتبہ یہ بھی کہا ہے کہ القاعدہ بلوچستان میں سرگرم ہوگئی ہے۔ مبصرین اس کی بنیادی وجہ یہ بتا رہے ہیں کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو ڈرون حملوں کے ذریعے کمزور کرانے کے بعد اب امریکیوں کو یہ شک ہوگیا ہے کہ عرب جنگجو محفوظ مقامات کی تلاش میں اب شاید بلوچستان منتقل ہوچکے ہیں۔
ان حالات میں اب یہ خوف گہرا ہوتا جارہا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے رفتہ رفتہ پھیلنے والے ڈرون حملے کہیں سچ مچ بلوچستان تک نہ پہنچ جائیں۔ گزشتہ ہفتے صدر براک اوباما کے افغانستان اور پاکستان سے متعلق اپنی نئی پالیسی کے اعلان کے وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ دونوں ممالک کی سرحدی پٹی پر لڑنے اور تقریر میں ڈرون حملوں کے روکنے کے حوالے سے کچھ نہ کہنے نے ڈرون حملوں کے دائرے کو مزید بڑھانے کے خوف میں مزید اضافہ کردیا ہے۔






















