اورکزئی ایجنسی: پہلا ڈرون حملہ، دس ہلاک

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
امریکی جاسوس طیاروں نے طالبان کے ایک مشتبہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا ہے جس میں دس افراد ہلاک اور چار زخمی بتائے جارہے ہیں۔تاہم طالبان ذرائع کہتے ہیں کہ ہلاک شدگان کی تعداد آٹھ ہے۔
مقامی انتظامیہ نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کی صبح تقریباً دس بجے امریکی جاسوسی طیاروں نے اپر اورکزئی کے خادیزئی علاقے پر مبینہ طور میزائل داغے ۔ ان کے بقول حملے میں طالبان کے ایک مشتبہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ حملے میں دس مشتبہ طالبان مارے گئے ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق اوکزئی ایجنسی سے بتایا جاتا ہے۔جائے وقوعہ کے قریب طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے ان کے مرکز کے قریب ان کے ایک دوسرے ٹھکانے پر کیا گیا ہے۔انہوں نے مرنے والے طالبان کی تعداد تقریباً آٹھ بتائی ہے۔
ان کے بقول واقعہ کے فوری بعد طالبان جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے علاقے کو گھیرے میں لیکر لاشیں نکالنے کا کام شروع کردیا ہے۔
قبائلی علاقہ اورکزئی وہ واحد ایجنسی ہے جسکی سرحدات افغانستان سے نہیں ملتیں۔ اورکزئی ایجنسی بیت اللہ محسود کے دست راست حکیم اللہ کا ہیڈ کوراٹر ہے جہاں سے وہ کُرم اور خیبر ایجنسی میں طالبان کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔اوکزئی ایجنسی پر یہ پہلا امریکی حملہ ہے۔
پچھلے ہفتے امریکہ کے صدر براک اوباما نے افغانستان اور پاکستان کے بارے میں اپنی نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئےکہا تھا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پاکستان اور افغانستان کی سرحدی پٹی کو توجہ کا مرکز بنایا جائے گا۔
پالیسی تقریر میں امریکی صدر نے پاکستانی سرزمین پر ڈرونز حملوں روکنے کا ذکر تک نہیں کیا تھا حالانکہ پاکستان کی حکومت ان سے یہی توقع کررہی تھی۔تاہم اسکے باوجود حکومت پاکستان نے انکی نئی پالیسی کا خیر مقدم کیا۔


















