پولیس افسروں کے خلاف کارروائی

- مصنف, علی سلمان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
سری لنکا کرکٹ ٹیم پر حملے کے بارے میں ایک تحقیقاتی رپورٹ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کو پیش کردی گئی ہے۔انکوائری کمشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں ایسے پولیس افسروں کے ناموں کی ایک لمبی فہرست شامل ہے جنہوں نے مبینہ طور پرغفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔اس رپورٹ میں ان افسروں کے لیے سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔
مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے اپنی بحالی کے فوری بعد سری لنکا کرکٹ ٹیم پر حملے میں غفلت کا مظاہرہ کرنے والے پولیس افسروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں نے پہلے سے اس حملے کی اطلاع دے دی تھی لیکن اس کے باجود سیکیورٹی کے مناسب انتظامات نہیں کیے گئے۔
بدھ کو اپنے دفتر پہنچتے ہی انہوں نے سب سے پہلے اسی تحقیقات کا حکم دیا اور اپنی پارٹی کے صوبائی صدر سردار ذوالفقار علی کھوسہ کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم بنا دی۔اس ٹیم نے فوری طور پر کام شروع کردیا اور وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اسلام آباد سے لوٹے تو فوری طور پر انہیں یہ رپورٹ پیش کردی گئی۔سردار ذوالفقار علی کھوسہ نے بتایا کہ اس تحقیقات میں آٹھ نو گھنٹے لگے اور ہر متعلقہ پولیس افسر کے بارے میں تفصیل سے اس کی غفلت کی نشاندہی کی گئی اور کوتاہی کے مطابق سز اتجویز کی گئی۔
انکوائری ٹیم کے ممبر صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے میڈیا کو بتایا کہ انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس خواجہ خالد فاروق کے جواب تسلی بخش نہیں تھے۔وزیر قانون نے کہا کہ آئی جی نے یہ تو بتایا کہ انہوں نے انٹیلیجنس رپورٹ اپنے ما تحت افسروں کو بھجوادی تھی لیکن اس رپورٹ کے مطابق پلان بنانا اور اس پر عملدرآمد یقینی بنانا بھی انہی کی ذمہ داری تھی۔خواجہ خالد فاروق کو گورنر راج کے دوران تعینات کیا گیا تھا اور مسلم لیگی رہنماؤں نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ انہیں مسلم لیگ نون مخالف اور پیپلز پارٹی نواز سیاسی اتحاد بنانے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔
خواجہ خالد فاروق نے سری لنکا کرکٹ ٹیم پر حملے سے صرف ایک دن پہلے لاہور کے دس افسروں کے تبادلے کر کے اپنی مرضی کے افسروں کی تقرری کی تھی۔ انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس خواجہ خالد فاروق کو بھرے اجلاس میں جواب طلبی کے اور جرح کے بعد تبدیل کردیا گیا ہے۔
انکوائری کمشن کے سربراہ سردار ذوالفقار علی کھوسہ کا کہنا ہے تحقیقات کے مطابق ایس پی اور ایس ایس پی سطح کے افسروں کی واضح غفلت سامنے آئی ہے۔صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ جن افسروں کو ٹیم کی روانگی سے ایک دوگھنٹے پہلے پہنچنا تھا وہ حملے کے وقت اپنے گھروں پر موجود تھے اور وہ کارروائی سے بچ نہیں پائیں گے۔
وزیر اعلی پنجاب نے سری لنکا کرکٹ ٹیم پر حملے کی تحقیقات کے علاوہ مناوں پولیس ٹریننگ سکول پر حملے کی ایک الگ سے انکوائری کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔اس تحقیقات کی رپورٹ بھی ایک ہفتے کے اندر آجائے گی۔صوبائی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ پیشگی اطلاع کے باوجود تربیتی سکول پر صرف تین چوکیدار تعینات تھے جن کےپاس رائفلیں تو دور کی بات ڈنڈے تک نہیں تھے۔تیسری انکوائری پتنگ بازی کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی ہورہی ہے۔یہ اجازت عین اس روز دی گئی تھی جب مسلم لیگ نون نے لانگ مارچ کی ریلی نکالنی تھی۔سردارذوالفقار علی کھوسہ نے حکومت بحالی سے پہلے اعلان کیا تھا کہ اس پتنگ بازی کے نتیجے میں ہلاکتوں پر ملوث افسروں کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جائے گا۔
مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف اپنی پارٹی کی حکومت کی برطرفی کے بعد جلسوں میں پولیس افسروں کو متنبہ کرتے رہے تھے کہ وہ ان کی احتجاجی تحریک کو کچلنے کے غیر قانونی احکامات نہ مانیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں بھائیوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ حکومت بحالی کے بعد وہ گورنرپنجاب کے غیر قانونی احکامات ماننے والے پولیس اور انتظامی افسروں سے سختی سے جواب طلب کریں گے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ گورنر راج کے خاتمے کے بعد سے گورنر راج کے دوران تعینات ہونے والے افسران مسلم لیگ نون کی حکومت کی جانب سے سخت محکمانہ کارروائی کا خدشہ محسوس کر رہے تھے۔ یہ خدشہ ان تین انکوائریوں کی صورت میں حقیقت بن کر ان کے سامنے آ کھڑا ہوا ہے۔
امکان ہے کہ جمرات کو کسی وقت سری لنکا ٹیم پر حملے میں مبینہ غفلت کے افسروں کی سزاؤں کا اعلان کردیا جائے گا جبکہ اگلے ایک ہفتے کے دوران باقی دو انکوائریوں کی زد میں آنے والے پولیس افسران اپنی سزائیں سن سکتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پنجاب کے ان کئی درجن ڈی ایس پی اور ایس ایچ او حضرات کو معطل کردیا گیا ہے جنہیں گورنر راج کے دوران محض اس لیے اہم تعیناتیاں دی گئی تھیں کہ انہیں شہباز شریف دور میں مختلف قسم کی بے ضابطگیوں پر تحقیقات کا سامنا تھا۔






















