زوار کو مستقل مکان مل گیا !

جناح پیپرز
    • مصنف, وسعت اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کے ایک عالمی شہرت یافتہ محقق ڈاکٹر زوار حسین زیدی اکتیس مارچ کو لاہور میں انتقال کرگئے۔

زوار زیدی انیس سو اڑتالیس میں علی گڑھ یونیورسٹی سے تاریخ میں ایم اے کیا۔ بعد ازاں لاہور منتقل ہوگئے۔ایف سی کالج میں تاریخ کے استاد رہے۔ کچھ عرصہ ایچی سن کالج میں بھی پڑھایا۔انکے شاگردوں میں ڈاکٹر اقبال احمد اور مستقبل کے ایک صدرِ پاکستان فاروق لغاری بھی شامل تھے۔انیس سو اکسٹھ میں زوار زیدی لندن چلے گئے اور تقسیمِ بنگال پر مقالہ لکھ کر سکول آف اوریئنٹل اینڈ افریکن سٹڈیز سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں وہیں استاد مقرر ہوئے اور انیس سو نوے تک تدریس سے منسلک رہے۔اس دوران دس برس تک وہ یونیسکو کی انٹرنیشنل کونسل فار آرکائیوز میں بھی متحرک رہے۔

اس دوران وہ اکثر پاکستان آتے رہے۔انکا پہلا تدوینی کارنامہ مسلم لیگ پیپرز کو زمانے کی دست برد سے بچانا تھا۔قائدِ اعظم اکیڈمی کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر شریف المجاہد کے بقول دہلی میں مسلم لیگ کے آفس سیکرٹری شمس الحسن مسلم لیگ کے بارے میں منوں دستاویزات پاکستان لائے۔مگر یہ دستاویزات بوریوں میں بند دارالحکومت کراچی کی سرکاری بارکوں میں گلتی سڑتی رہیں۔جب انیس سو ساٹھ کے اوائیل میں ایوب خان نے دارالحکومت کراچی سے راولپنڈی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تو کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر آئی ایچ قریشی کے اصرار پر ایوب خان نے یہ دستاویزات کراچی یونیورسٹی کے حوالے کرنے کی اجازت دے دی۔انیس سو چھیاسٹھ میں ان دستاویزات کی بحالی کا کام ڈاکٹر زوار زیدی کے سپرد ہوا۔اب ان مسلم لیگ پیپرز کی فوٹو کاپیوں پر مبنی سوا چھ سو جلدیں کراچی میں قائد اعظم اکیڈمی کے پاس ہیں۔اور اوریجنل پیپرز نیشنل آرکائیوز اسلام آباد کے تہہ خانوں میں بند ہیں۔بقول پروفیسر شریف المجاہد ابھی مسلم لیگ پیپرز کی چھ سو مزید جلدیں بنائی جا سکتی ہیں لیکن سرکاری ترجیحات میں شاید یہ کام کبھی بھی شامل نہ ہوسکے۔

جب زوار زیدی انیس سو اکیانوے میں لندن سے پاکستان منتقل ہوئے تو اسلام آباد میں نیشنل آرکائیوز میں انہیں قائد اعظم سے متعلق دستاویزات اور خطوط کو محفوظ کرنے کا کام سونپا گیا۔ان میں سے بیشتر مواد وہ تھا جو محترمہ فاطمہ جناح کی تحویل میں تھا اور انکی وفات کے بعد حکومت نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔

ڈاکٹر زوار زیدی نے انتہائی مستقل مزاجی اور عرق ریزی کے ساتھ ان دستاویزات کو جناح پیپرز کے نام سے ترتیب دینا اور محفوظ کرنا شروع کیا۔اس کام میں انکی اہلیہ بھی خوب مدد کرتی رہیں۔اور اٹھارہ برس کی محنت کے سبب جناح پیپرز کی سولہ جلدیں مرتب ہو گئیں۔ زوار زیدی نے اس پروجیکٹ کے لیے تنخواہ لینے سے انکار کیا اور صرف ایک گاڑی اور رہنے کی جگہ کی فرمائش کی۔انیس سو نوے کے وسط میں انہیں قائد اعظم اکیڈمی کا اعزازی چیرمین بنا دیا گیا۔

اب سے چار ماہ پہلے ڈاکٹر زوار زیدی کو اسلام آباد میں جو سرکاری مکان ملا ہوا تھا وہ گریڈ سترہ کی ایک خاتون افسر نے اپنے بااثر صحافی شوہر کی مدد سے خاموشی سے اپنے نام الاٹ کرا لیا۔اور زوار زیدی کا سامان گھر سے نکال کر سڑک پر رکھ دیا گیا۔ بعد میں ذرائع ابلاغ میں شورو غل کے سبب یہ زبردستی کی الاٹمنٹ تو منسوخ ہوگئی ۔لیکن زوار زیدی کی غیرت نے اسلام آباد میں رہنا گوارا نہیں کیا اور خاموشی سے لاہور منتقل ہوگئے۔اور پھر یہی خاموشی دل کے دورے میں تبدیل ہوکر انہیں ہمیشہ کے لیے وہاں لے گئی جہاں سے انہیں کوئی بے دخل نہیں کرسکے گا۔

زوار زیدی کے بعد بظاہر کوئی ایسا نظر نہیں آتا جو جناح پیپرز کی باقی جلدیں مرتب کرسکے۔ بقول شریف المجاہد ابھی کم از کم دس مزید جلدوں کا کام باقی ہے۔