’جج صاحبان کو ایسے نہیں نکالا جاسکتا‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ کسی بھی جج کو آئین میں دیے گئے طریقۂ کار کو اختیار کیے بغیر نہیں نکالا جاسکتا۔
یہ ریمارکس انہوں نے جمعہ کو سندھ ہائی کورٹ کے دو ایڈیشنل ججوں کو نوکریوں سے برطرف کیے جانے کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔
یہ درخواست سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے دائر کی گئی ہے۔عدالت نے اس درخواست پر وزارت قانون اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تین ہفتوں میں جواب طلب کرلیا ہے۔
درخواست کے سماعت کرنے والے بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس راجہ فیاض اور جسٹس میاں شاکراللہ جان شامل تھے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ظفر شیرازی اور رشید کلہوڑ کو سندھ ہائی میں چھبیس اگست سنہ 2008 کو ایک سال کی مدت کے لیے ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا تھا جس میں بعدازاں چھ ماہ کی توسیع کر دی گئی۔
درخواستوں کے حق میں دلائل دیتے ہوئے رشید اے رضوی ایڈوکیٹ نے کہا کہ اُن کے مؤکلوں کو آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نوکریوں سے نکالا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ججوں کو نوکریوں سے برطرف کرنے کے لیے آئین کی دفعہ 209 کے تحت کارروائی نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے عبوری حکنمامے کے تحت حلف اُٹھانے والے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے فروری سنہ 2009 میں سندھ ہائی کورٹ کے ایڈیشنل ججز کوان کے عہدے سے برطرف کردیا تھا۔
رشید اے رضوی نے کہا کہ سابق چیف جسٹس نے ججوں سے متعلق ظفر علی شاہ کیس میں سپریم کورٹ کے بارہ رکنی بینچ کے فیصلے کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اعلی عدالتوں کے کسی بھی جج کو آئین میں دیے گئے طریقہ کار کو اختیار کیے بغیر نوکری سے نہیں نکالا جاسکتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ تین نومبر سنہ دوہزار سات میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات سے متعلق ٹکا اقبال کی درخواست پر ہونے والے فیصلے کا بھی جائزہ لے ۔ اس فیصلے میں سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے تین نومبر سنہ دوہزار سات کو سابق ملٹری ڈکٹیٹر کے اقدامات کو جائز قراد دیا تھا۔
سابق صدر نے اس دوران افتخار محمد چوہدری سمیت اعلی عدالیوں کے ساٹھ ججوں کو معزول کردیا تھا۔
واضح رہے کہ موجودہ پارلیمنٹ نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے تین نومبر سنہ دوہزار سات کے اقدامات کی توثیق نہیں کی۔






















