لڑکی کو کوڑے، شدید مذمت

لڑکی کو کوڑے
،تصویر کا کیپشنوفاقی اور سرحد حکومت نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے
    • مصنف, اعجاز مہر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

طالبان کے ایک گروہ کے ہاتھوں ایک لڑکی کو سرِ عام کوڑے مارے جانے پر وفاقی اور صوبہ سرحد کی حکومتوں، بعض مذہبی جماعتوں، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

<link type="page"><caption> لڑکی کو کوڑوں کی سزا: ویڈیو </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/mediaselector/check/urdu/meta/dps/2009/04/090403_swat_flogging?nbram=1&nbwm=1&bbram=1&bbwm=1&size=16x9&lang=en-ws&bgc=003399" platform="highweb"/></link>

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور صوبہ سرحد کی حکومتوں نے علیحدہ علیحدہ واقعہ کی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم کے ترجمان نے جاری کردہ بیان میں بتایا ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی نے لڑکی کو طالبان کی جانب سے کوڑے مارنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

لڑکی کو کوڑے

انسانی حقوق کمیشن کے شریک چیئرمین اور سابق وزیر قانون اقبال حیدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک انتہائی غیر انسانی اور شرمناک واقعہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ حکومت فوری طور پر طالبان سے معاہدے ختم کرے، لڑکی کو کوڑے مارنے والوں کو سزاد دلوائے اور شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرے۔‘

تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کے ترجمان امیر عزت خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے علم کے مطابق یہ واقعہ ایک سال پرانا ہے اور اس وقت اُسے منظر عام پر لانا شرعی عدالتوں کے قیام کے خلاف ایک سازش ہے۔ہم اس معاملے کی جانچ کریں گے اور جو بھی ذمہ دار ہوں گے انہیں سزا دلوائیں گے۔‘

اس بارے میں جب ایک بڑے عالم دین مفتی منیب الرحمان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں زنا کے جرم میں مجرم اور مجرمہ کو کوڑے مارنے کی سزا کا تعین ہے لیکن یہ سزا ریاست کی مجاز عدالتیں دے سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جرم کی سزا کے لیے ٹھوس شواہد کی موجودگی، تصدیق اور طریقہ کار کے لیے رہنما اصول واضح کیے گئے ہیں اور یہ انہیں نہیں معلوم کہ اس معاملے میں وہ تقاضے پورے کیے گئے ہیں کہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور مولانا صوفی محمد کے درمیان کیا معاملہ طے پایا ہے، شرعی ریگولیشن کیا کہتا ہے اور کسے اختیار ہے یہ ساری باتیں جانے بنا وہ اس پر مزید تبصرہ نہیں کر سکتے۔

جمیعت علماء اسلام کے اپنے دھڑے کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے رابطہ کرنے پر کہا کہ واقعہ کے تمام حقائق کا جائزہ لیے بنا کوئی تبصرہ کرنا مناسب نہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جس انداز میں یہ سزا دی گئی ہے اس سے اسلام اور علماء دین کو پوری دنیا کے سامنے جوابدہ بنایا گیا ہے اور اس سے اسلام کا منفی تصور ابھر سکتا ہے۔

صوبہ سرحد میں حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان زاہد خان نے ایک بیان میں واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ پشتون روایات اور اقدار کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ صوبائی حکومت نے اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

جماعت اسلامی کے نو منتخب امیر منور حسن نے ایک نجی ٹی وی چینل پر اس بارے میں سوال پوچھے جانے کے باوجود انہوں نے اس واقعہ کی مذمت نہیں کی اور بات گول کرتے رہے۔