مناواں کا آپریشن کامیاب

مناواں حملہ
،تصویر کا کیپشنامریکی تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ مناواں حملے میں دہشت گردوں کی منصوبہ بندی ناقص تھی
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

دفاع، انٹیلی جنس اور دہشت گردی کے امور پر کام کرنے والے ایک امریکی ادارے یا ’تھنک ٹینک‘ نے لاہور کے قریب مناواں میں پولیس تربیتی مرکز پر حملے اور گزشتہ برس ممبئی کے ہوٹلوں پراسی نوعیت کی کارروائی کا موازنہ کیا ہے اور دونوں جگہوں پر ہونے والے آپریشن میں خامیوں اور خوبیوں کی نشاندہی کی ہے۔

امریکی ماہرین کا خیال ہے کہ جس تیزی کے ساتھ پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر حملہ آوروں کو فائرنگ کے تبادلے میں مصروف کر دیا اس نے بعد میں پہنچنے والے نیم فوجی اور فوجی کمانڈوز کا کام آسان کر دیا۔

’فائرنگ کے دوران بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے زخمی ساتھیوں کو وہاں سے نکالنا پولیس کی ایلیٹ فورس کی چابکدستی کی مثال ہے جبکہ اس دوران حملہ آور ان بلٹ پروف بکتر بند گاڑیوں کو جدید اسلحہ اور ہینڈ گرینیڈز سے نشانہ بنانے کی کوشش کرتے رہے‘۔

اگرچہ امریکی تھنک ٹینک نے ایلیٹ فورس کی کارکردگی کی تعریف کی ہے تاہم اس آپریشن کے دوران پاکستانی میڈیا اور بعض ماہرین نے پولیس کے ابتدائی رد عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔مناواں ٹریننگ سنٹر میں ناکافی حفاظتی اقدامات، ’پولیس اہلکاروں کا جائے واردات سے فرار‘ اور اس آڑ میں بعض حملہ آوروں کے مبینہ فرار کی ویڈیو بعض چینلز مسلسل نشر کرتے رہے۔

امریکی تھنک ٹینک سٹریٹفور نے مناواں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کو مؤثر تو قرار دیا ہے لیکن اسکا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو بھارتی اہلکاروں کے مقابلے میں انسداد دہشت گردی کے اس آپریشن کے لیے کم دقتوں کا سامنا تھا۔

مناواں ٹریننگ سینٹر
،تصویر کا کیپشنمناواں ٹریننگ سینٹر پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد آٹھ گھنٹے تک کارروائی کرنے کے بعد مرکز پر کنٹرول حاصل کیا

تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ ممبئی میں حملہ آور بہت سے غیر ملکیوں کو یرغمال بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے جسکی وجہ سے انکے خلاف کارروائی میں پیچیدگیاں پیدا ہو ئیں جبکہ مناواں میں سیکیورٹی اہلکاروں نے سفارتی نزاکتوں سے بالاتر ہو کر قدرے ’بے رحم‘ کارروائی کی جسکی وجہ سے انہیں کامیابی بھی ملی۔

امریکی ادارے کے مطابق مناواں اور ممبئی حملہ آوروں کے طریقۂ واردات اور مقاصد میں خاصی مماثلت پائی جاتی ہے لیکن مناواں حملہ آور اپنے اہداف کے بارے میں یا تو بہت واضح نہیں تھے یا انکی منصوبہ بندی میں بہت سی خامیاں تھیں۔ ’ورنہ ایک میدان میں آٹھ سو غیر مسلح افراد پر ہینڈ گرینیڈ اور کلاشنکوفز سے نصف درجن سے زائد حملہ آوروں کی کارروائی میں اتنی کم ہلاکتیں ہونے کا کوئی اور سبب نہیں ہو سکتا‘۔ امریکی ماہرین نے مناواں اور ممبئی میں بعض تضادات بھی اجاگر کیے ہیں ان میں مناواں کے مقابلے میں ممبئی میں ایک سے زیادہ مقامات پر حملہ، یرغمالیوں کو بہت بڑی اور پیچیدہ عمارتوں میں رکھنا اور ممبئی کی مقامی آبادی اور میڈیا کا سرکاری کارروائیوں میں خلل ڈالنا بھی شامل ہیں۔