معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں

- مصنف, ارمان صابر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
پاکستان کے مرکزی بینک نے اپنی سہ ماہی رپورٹ میں کہا ہے کہ مثبت مالی اقدامات کے باعث ملک کی معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں، مالیاتی نظم و ضبط بہتر ہوا ہے، اور توقع ہے کہ اب مہنگائی میں بھی کمی آنا شروع ہوگی۔
سنیچر کو جاری کی گئی سٹیٹ بینک آف پاکستان کی دوسری سہ ماہی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط میں بہتری کے ساتھ زری پالیسی کی سختی کی بنا پر مجموعی طلب میں کمی آئی ہے۔ اس سے گرانی میں کمی کے امکانات بہتر ہوئے۔ گو کہ گرانی ابھی تک بہت بلند ہے، تاہم توقع ہے کہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں یہ تیزی سے کم ہوگی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیرونی شعبے میں بھی واضح بہتری دکھائی دے رہی ہے اور جولائی تا فروری مالی سال 09ءمیں تجارتی خسارہ کم ہوا ہے جو سات سال میں پہلی بار کمی ہے۔ تجارتی خسارے میں کمی اور بھرپور ترسیلات نے جاری حسابات کے خسارے کو بھی کم کردیا ہے جس سے ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر بڑھنا شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امید ہے کہ درآمدات میں کمی جو زیادہ تر ملکی طلب کی کمزوری اور اشیا کی کم قیمتوں کی وجہ سے ہوئی، جاری حسابات کے خسارے کو گھٹا دے گی جس سے پاکستان کو زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کا موقع ملے گا۔
رپورٹ میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ رواں مالی سال کے دوران ملکی معیشت میں 2.5 فیصد سے 3.5فیصد کے درمیان نمو کا امکان ہے اور سالانہ گرانی کی شرح 19.5فیصد سے 20.5 فیصد کے ارد گرد رہنے کی توقع ہے جبکہ مجموعی مالیاتی خسارہ اور کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ بالترتیب جی ڈی پی کے 4.3 فیصد سے 4.7 فیصد اور 5.8 فیصد سے 6.2 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2009ء کے پہلے چھ ماہ کا مالیاتی خسارہ کم ہوکر تخمینہ شدہ سالانہ جی ڈی پی کے 1.9 فیصد تک آگیا ہے جبکہ مالی سال 2008ء کی پہلی ششماہی میں یہ 3.4 فیصد تھا۔ چنانچہ مالی سال 09ءکا مالیاتی خسارہ مالی سال 09ءکے بجٹ میں طے شدہ سالانہ ہدف کے مطابق اور آئی ایم ایف کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ سے ہم آہنگ معلوم ہوتا ہے۔ ابھی تک مالیاتی بہتری زیادہ تر تیل کی زر اعانت کے خاتمے اور ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔
مرکزی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیرونی حسابات کا جو توازن مالی سال 2009ءکے جولائی تا اکتوبر کے عرصے میں تیزی سے بگڑ گیا تھا، اگلے مہینوں کے دوران اس میں خاصی بہتری آ گئی کیونکہ جاری حسابات کا خسارہ تیزی کے ساتھ کم ہوا اور مالی رقوم کی آمد میں معقول اضافہ ہوا۔ اس سے زر مبادلہ کے ذخائر بڑھے اور روپے کی قدر میں مالی سال 2009ءکے جولائی تا اکتوبر عرصے میں جو کمی آئی تھی وہ بھی کسی حد تک بحال ہو گئی۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں قیمت کے تمام اشاریوں جیسے صارف اشاریہ قیمت، تھوک اشاریہ قیمت اور حساس قیمت اظہاریے میں واضح کمی کا رحجان دیکھا گیا ہے۔ صارف اشاریہ قیمت گرانی (سال بسال) میں مارچ 2008ءسے مسلسل اضافے کے بعد نومبر 2008ءسے کچھ نرمی آنی شروع ہوئی۔ فروری 2009ءمیں یہ 21.1 فیصد کم ہوگئی جبکہ اگست 2008ءمیں اپنے نقطہ عروج 25.3 فیصد پر تھی۔ تاہم پچھلے ماہ کے 20.5 فیصد اور گزشتہ سال کے اسی ماہ کے 11.3 فیصد کے مقابلے میں یہ گرانی زیادہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خریف مالی سال 2009ءمیں گنے کی پیداوار میں 18.5 فیصد کمی کے باوجود تمام علامات سے ظاہرہوتا ہے کہ مالی سال2009ءکے دوران زرعی شعبے کی نمو بہتر سطح پر رہے گی۔ یہ اندازہ گندم کی متوقع عمدہ فصل،چھوٹی فصلوں کی ہدف سے زائد پیداوار اور گلہ بانی کے شعبے کی بہتر کارکردگی کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے لگایا گیا ہے۔






















