کوئٹہ:کنٹینر سے پینتالیس لاشیں برآمد

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- وقت اشاعت
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہزار گنجی کے علاقے میں کھڑے ایک کنٹینر سے پینتالیس افراد کی لاشیں اور چالیس کے لگ بھگ بے ہوش افراد ملے ہیں۔
ہلاک شدگان اور بے ہوش افراد کا تعلق افغانستان سے بتایا گیا ہے اور یہ لوگ غیر قانونی طریقے سے ایران جانا چاہتے تھے۔
سینیچر کو ہزار گنجی میں حال ہی میں قائم ہونے والے ٹرک اڈے سے مقامی لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی کہ ایک کنٹینر میں کچھ لوگ بے ہوش اور کچھ لاشیں پڑی ہیں جنہیں شہر کے مختلف ہسپتالوں میں لایا گیا۔
کمشنر کوئٹہ محمد نسیم لہڑی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ کنٹینر افغانستان کے علاقے سپن بولدک سے چمن اور پھر چمن سے کوئٹہ پہنچا تھا۔ ہلاک اور بے ہوش ہونے والے تمام افراد کا تعلق افغانستان کے صوبے کپیسہ سے بتایا گیا اور ان میں بیشتر کی عمریں سولہ سے بیس سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔

بے ہوش افراد نے ہوش میں آنے کے بعد متضاد خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ایک نوجوان محمد ہاشم نے بتایا کہ وہ جمعہ کو افغانستان کے علاقہ قندھار سے روانہ ہوئے۔ پھر سپین بولدک سے چمن اور چمن سے چار گھنٹے تک پیدل چلتے رہے۔ اس کے بعد وہ کوئٹہ پہنچے اور یہاں کنٹینر میں بیٹھ گئے جہاں کچھ گھنٹے بعد ان کا دم گھٹنے لگا اور وہ بےہوش ہوگئے۔
اس کے برعکس ایک اور نوجوان شمس الرحمان نے بتایا کہ وہ کل دو بجے سے اس کنٹینر میں موجود ہیں اور افغانستان سے اسی کنٹینر میں آ رہے ہیں۔
یہاں سوال یہاں پیدا ہوتا ہے کہ سرحد پر فرنٹیئر کور کے علاوہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اہلکار اور پولیس موجود ہوتی ہے پھر ایک کنٹینر میں یہ لوگ کیسے یہاں تک پہنچ گئے۔ ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سلطان آفریدی نے کہا کہ سرحد بہت بڑی ہے یہ کس طرف نے نکلے ہیں اس بارے میں معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
بلوچستان کے راستے ایران اور پھر یورپی ممالک کی طرف انسانی سمگلنگ کا سلسلہ تو کافی عرصہ سے جاری ہے لیکن اس طرح کنٹینر میں انسانی سنگلنگ اور اس میں ہلاکت کا یہ واقعہ حکومتی اداروں کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















