شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیاروں نے طالبان کے ایک مشتبہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا ہے جس میں تیرہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
مقامی انتظامیہ نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ مبینہ امریکی میزائل حملہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات تقریباً تین بجے ہوا جس میں جاسوس طیاروں نے شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل کے ڈانڈہ علاقے میں ایک مقامی شخص طارق کے مکان کو نشانہ بنایا۔
اطلاعات کے مطابق حملے میں قریباً تیرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے بعض غیر ملکی بھی ہیں تاہم سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
یہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پاکستانی سرزمین پر ہونے والا چوتھا میزائل حملہ ہے۔ اس سے قبل یکم اپریل کو امریکی ڈرونز نے پہلی مرتبہ اورکزئی ایجنسی میں ایک گھر کو نشانہ بنایا تھا جس میں دس طالبان ہلاک ہوئے تھے جبکہ گزشتہ ماہ شمالی وزیرستان اور کرّم ایجنسی میں ہونے والے حملوں میں بھی متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
خیال رہے کہ امریکہ کا الزام ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے ارکان مبینہ طور پر چھپے ہوئے ہیں جنہیں نشانہ بنانے کے لیے سرحد پار افغانستان میں موجود امریکی افواج نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان اور القاعدہ کےمبینہ ٹھکانوں کو جاسوس طیاروں سے نشانہ بنانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے اور امریکہ کے نزدیک اس قسم کے حملے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور دیگر مبینہ شدت پسندوں سے نمٹنے میں کارگر ثابت ہورہے ہیں۔
قبائلی علاقوں میں اب تک ہونے والے امریکی حملوں میں سب سے زیادہ حملے شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں ہوئے ہیں۔ ماضی میں حکومت پاکستان تقریباً ہر حملے پر صدائے احتجاج بلند کرتی تھی مگر اب احتجاج کا یہ سلسلہ بھی تقریباً رک سا گیا ہے۔


















