تحریک طالبان نے فرنٹیئر کور پر حملہ کیا

کیمپ اسلام آباد کے انتہائی پوش سیکٹر میں قائم ہے
،تصویر کا کیپشنکیمپ اسلام آباد کے انتہائی پوش سیکٹر میں قائم ہے
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

اسلام آباد کے سیکٹر ای سیون میں واقع فرنٹیئر کانسٹیبلری کے رہائشی کیمپ پر گزشتہ شام ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے تحریک طالبان نے ایک مرتبہ پھر یہ مطالبہ کیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں فوری طور پر ڈرون حملوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔

تحریک طالبان نے دھمکی دی ہے کہ اگر ڈرون حملے بند نہ ہوئے تو پاکستان میں مزید خود کش حملے کیئے جائیں گے۔

اسلام آباد میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے کیمپ پر حملے میں پولیس کے مطابق آٹھ اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

تین قبائلی ایجنسیوں اورکزئی، کرم اور خیبر کے لیے تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر حکیم اللہ محسود نے بی بی سی کو کسی نامعلوم مقام سے ٹیلی فون کر کے گزشتہ شام ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان کی جانب سے قبول کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان نے پہلے ہی سے حکومت کے اہلکاروں کو خبردار کیا تھا کہ وہ اورکزئی ایجنسی میں ڈرون حملے کا بدلہ اسلام اباد میں ہی پورا کیا جائےگا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے کا بدلا اسلام آباد میں پورا کرنا اُن کا شوق تھا جو پورا ہوگیا ہے۔ لیکن انہوں نے چکوال میں ایک امام بارگاہ پر خودکش حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔

یاد رہے کہ سنیچر کو پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق تقریباً شام پونے آٹھ بجے ایف سیون اور ای سیون کے درمیان گرین بیلٹ پر واقع ایف سی کے کیمپ میں ایک خودکش حملہ ہوا تھا۔

اس دھماکے میں آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے
،تصویر کا کیپشناس دھماکے میں آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے

دھماکے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر اس کی ناکہ بندی کر دی تھی۔ پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بتایا تھا کہ حملے کے وقت ایف سی کے چوبیس اہلکار موقع پر موجود تھے جن میں سے چھ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ حکیم اللہ کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے تین باتوں پر عمل نہیں کیا تو پورے پاکستان میں خودکش حملے تیزی لائی جائے گی۔ تین باتوں میں قبائلی علاقوں سے فوج کو نکالنا، مولانا عبدالعزیز کی رہائی اور ڈرون حملوں کو روکنا شامل ہیں۔

واضح رہے کہ حکومت نے چند روز قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خبردار کیا تھا کہ شدت پسند لاہور میں مناواں میں پولیس کے تربیتی مرکز کی طرح اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاقے میں پولیس اور سیکورٹی فورسز کے مراکز کے علاوہ اہم قومی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

ایک سرکاری دستاویز میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے ایک منصوبہ تشکیل دیا ہے جس کے تحت بہت جلد اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان میں سِول، فوجی تنصیبات کے علاوہ غیر ملکی سفارت خانے بھی شامل ہیں۔