صحافیوں کی برطرفیوں پر احتجاج

- مصنف, احمد رضا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
دنیا بھر کی صحافی یونینوں کی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے پاکستان کے مختلف اخباری اداروں اور ٹیلی وژن چینلز کی جانب سے صحافیوں اور اخباری کارکنوں کی برطرفیوں پر احتجاج کیا ہے اور میڈیا مالکان سے کہا ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کے ساتھ احترام سے پیش آئیں اور ملک کے مزدور قوانین کی پاسداری کریں۔
آئی ایف جے نے پیر کو جاری یہ بات ایک بیان میں کہی ہے۔ آئی ایف جے دنیا کے 120 ملکوں کے چھ لاکھ صحافیوں کی نمائندگی کرتی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے مطابق پچھلے کچھ عرصے میں پاکستان کے مختلف بڑے شہروں میں صحافیوں اور اخباری کارکنوں کو مختصر انتباہ کے بعد نوکریوں سے نکالا گیا ہے جن میں سے کئی کو یا تو ان کی برطرفی کی وجہ نہیں بتائی گئی یا یہ کہا گیا کہ یہ فیصلہ مالی مشکلات کی وجہ سے کیا جارہا ہے۔
آئی ایف جے نے دعوی کیا ہے کہ اسے میڈیا کے جن اداروں کے سیکڑوں صحافیوں اور اخباری کارکنوں کی اچانک برطرفیوں کی شکایات ملی ہیں ان میں ٹی وی چینلز ڈان نیوز، نیوز ون، چینل فائیو، آج، جیو، سماء کے علاوہ اخبارات آج کل، جناح، خبریں، دی پوسٹ، الشرق اور پاکستان آبزرور شامل ہیں۔
'پی ایف یو جے کے مطابق یہ برطرفیاں نیوزپیپرز ایمپلائز سروس کنڈیشنز ایکٹ، پاکستان کے لیبر قوانین اور آئی ایل او کے کنوینشنز کے منافی ہیں۔ پی ایف یو جے نے ان برطرفیوں کو ظالمانہ قدم قرار دیتے اسکی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ میڈیا مالکان کی جانب سے ساتویں ویج بورڈ ایوارڈ پر عملدرآمد میں ناکامی کی وجہ سے صحافیوں اور اخباری کارکنوں کا پہلے ہی استحصال ہورہا ہے۔‘
پی ایف یو جے نے ان برطرفیوں کے خلاف سات اپریل کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔
آئی ایف جے کے ڈائریکٹر ایشیاء پیسیفک ریجن جیکویلین پارک کا کہنا ہے کہ 'ان کی تنظیم صحافیوں کی اچانک اور غیرمنصفانہ برطرفیوں کی مذمت میں پوری طرح پاکستانی صحافیوں کے ساتھ ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اخباری اداروں کی جانب سے مالی بحران پر اس قسم کا ردعمل نہ صرف صحافیوں کے روزگار کے لئے بلکہ آزادی صحافت اور اطلاعات کے تنوع کے لئے بھی خطرہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'مالکان کو اپنے سرمایہ کاروں کو یہ بات سمجھانی چاہیے کہ ایسی کمپنیاں ہی ان کے مفاد میں ہیں جو اپنے عملے پر سرمایہ لگاتی ہیں نہ کہ وہ جو مختصر مدت کے لئے پیسے بچانے کی خاطر ملازمتوں میں کٹوتی کرتی ہیں۔‘
بیان میں پاکستان کے اخباری اداروں کے مالکان کی توجہ فروری 2009ء میں منظور ہونے والے ہانگ کانگ اعلامئے کی جانب بھی مبذول کرائی گئی ہے جس میں ایشاء پیسیفک ریجن کے صحافیوں کی تنظیموں اور ٹریڈ یونینوں کے رہنماؤں نے حالیہ مالی بحران کے تناظر میں میڈیا مالکان سے اپیل کی تھی کہ اخراجات میں بڑے پیمانے پر کٹوتی معیار میں زوال کا سبب بنتی ہے اور اس سے نہ صرف میڈیا کمپنیز بلکہ صحافی اور اخباری کارکن اور عوام کا بڑا طبقہ متاثر ہوتا ہے۔
بیان میں میڈیا مالکان سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے صارفین میں اضافے اور مستقبل کی صحافت کے لئے سرمایہ کاری کریں اور اسکے لئے نئی ٹیکنالوجی اور آلات بروئے کار لائیں تاکہ صحافی حقائق پر مبنی کہانیاں زیادہ بہتر طور پر بیان کرسکیں۔






















