مانسہرہ: این جی او خواتین کی لاشیں

این جی او خواتین
،تصویر کا کیپشنصوبہ سرحد کے کئی علاقوں میں غیر سرکاری تنظیموں کی خواتین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

صوبہ سرحد کے ضلع مانسہرہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک جنگل سے غیر ملکی غیر سرکاری ادارے یا این جی او کی تین خواتین سمیت چار افراد کی لاشیں ملی ہیں جنہیں گولیاں مار کے ہلاک کیاگیا ہے۔

ڈی ایس پی مانسہرہ رسول شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کو شام ساڑھے چھ بجے شہر کے قریب شنکیاری کے علاقے میں ایک جنگل سے تین نوجوان خواتین کی لاشیں ملی ہے جنہیں فائرنگ کر کے ہلاک کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تینوں خواتین کا تعلق ایک پاکستانی این جی او نیشنل رورل سپورٹ پروگرام سے تھا جو امریکی امدادی ادارے یو ایس ایڈ کے تعاون سے علاقے میں تعلیم کے شبعہ میں کام کر رہی ہے۔ ڈی ایس پی کا کہنا تھا کہ تینوں خواتین کی لاشیں ایک گاڑی میں پڑی تھیں اوران کے ڈرائیور کی لاش گاڑی کے قریب زمین پر پڑی تھی۔

رسول شاہ کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والی خواتین میں سوشل آرگنائزر صد ف، اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر انجم زیب شامل ہیں جبکہ تیسری خاتون کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام لاشوں کو ڈسٹرک ہسپتال مانسہرہ پہنچائی دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس نے واقعہ کی تحقیقات شروع کی ہے لیکن تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اس واقعہ کے پیچھے کون ہے۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ این جی او یہ کارکن پیر کو دوپہر بارہ بجے کے قریب مانسہرہ شہر سے ایک سکول کے معائنے کے لیے جا رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے انہیں اغواء کر لیا اور بعد میں کونڈ بنگل روڈ پر انہیں گولیاں مار کے ہلاک کر دیا۔

یاد رہے کہ صوبہ سرحد کے دوسرے اضلاع میں سکیورٹی فورسز اور این جی او کارکنوں پر حملے معمول بن گئے ہیں، تاہم مانسہرہ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

ادھر صوبہ سرحد کے جنوبی شہر کوہاٹ میں حکام کے مطابق پولیس وین پر ہونے والی فائرنگ میں ایک پولیس افسر ہلاک جبکہ ایک دوسرا اہلکار اہلکار زخمی ہوگیا ہے۔ حملے میں گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

کوہاٹ پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کی شام چار بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب صدر تھانہ کی ایک موبائل ٹیم معمول کی گشت پر تھی کہ نامعلوم افراد نے راولپنڈی روڈ پر انٹر چینج کے قریب ایک دوسری گاڑی سے ان پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجہ میں پولیس افسر ریاض بنگش ہلاک جبکہ ایک محافظ تشکیل خان شدید زخمی ہوگیا ہے۔ زخمی اہلکار کو کوہاٹ آرمی ہسپتال میں داخل کروادیا ہے۔

پولیس کے ایک اہلکار فضل نعیم نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس افسر ریاض بنگش فائرنگ میں زخمی ہوئے لیکن بعد میں ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ واقعہ کے بعد پولیس سربراہ کی قیادت میں بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور کئی مقامات پر ناکہ بندی بھی کردی گئی۔ مختلف علاقوں میں تلاشی کا عمل بھی جاری ہے لیکن تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔