سوات میں وڈیو کے خلاف مظاہرہ

مظاہرین نے انسانی حقوق کی تنظیموں کے خلاف نعرے بازی کی
،تصویر کا کیپشنمظاہرین نے انسانی حقوق کی تنظیموں کے خلاف نعرے بازی کی
وقت اشاعت

صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں ہزاروں لوگوں نے لڑکی کو کوڑے مارنے کی سزا کے حوالے سے چند دن پہلے منظر عام پر آنے والی وڈیو کو جعلی قرار دیتے ہوئے اور اس کے آڑ میں سوات میں امن کے عمل کو متاثر کرنے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

پیر کو سوات قومی امن جرگہ کے زیراہتمام گرین چوک مینگورہ میں ایک بڑا احتجاجی جلسہ منعقد ہوا جس میں ضلع بھر سے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں ہزاروں لوگوں نے لڑکی کو کوڑے مارنے کی سزا کے حوالے سے چند دن پہلے منظر عام پر آنے والی وڈیو کو جعلی قرار دیتے ہوئے اس کے آڑ میں سوات میں امن کے عمل کو متاثر کرنے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

مظاہرین نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے مطالبہ کیا ہے کہ وڈیو پر کارروائی کرنے کی بجائے سوات میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ہونے والے واقعات کا ازخود نوٹس لیا جائے اور متاثرین کو معاوضہ ادا کیا جائے۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سوات قومی امن جرگہ کے سربراہ انعام الرحمان اور دیگر مقررین نے الزام لگایا کہ انسانی حقوق کی بعض تنظیموں نے جان بوجھ کر ایک جعلی وڈیو کو منظر عام پر لاکر سوات میں امن کے عمل کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوات میں گزشتہ ڈیڑھ سال تک تشدد کے واقعات ہوتے رہے، لوگوں کے گلے کاٹے گئے اور انہیں سرِ عام چوکوں اور چوراہوں میں لٹکایا گیا لیکن اس وقت انسانی حقوق کی یہ سب تنظمیں خاموشی تماشائی بنے ہوئے تھے اور کسی نے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ اب جب کہ سوات میں امن کا عمل شروع ہوچکا ہے تو ایسے میں بعض تنظیمیں امن کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کررہی ہیں۔

ان کے مطابق کوڑے مارنے کے واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے لیکن اس کی آڑ میں امن کے عمل کو خراب کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

مقررین نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ جب سوات میں لاشیں گررہی تھیں تو الطاف حسین اس وقت کہاں تھے کہ اب انہوں نے جعلی وڈیو کو مسئلہ بنا کر سوات کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ شروع کررکھا ہے۔

جلسے کے اختتام پر ہزاروں لوگوں نے قومی امن جرگہ کے سربراہ انعام الرحمان کی قیادت میں امن مارچ کیا اور شہر کے مختلف بازاروں سے ہوتے ہوئے مظاہرین پُرامن طور پر منتشر ہوئے۔

مقامی صحافیوں کے مطابق بارش کے باوجود جلسہ میں ایک اندازے کے مطابق دو سے تین ہزار افراد نے شرکت کی۔ شرکاء ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔