ڈرون حملوں پر خلیج برقرار ہے: شاہ محمود

- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان نے امریکی سیاسی اور فوجی قیادت پر واضح کیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان بعض اختلافی نکات اور انکے مؤقف میں خلیج موجود ہے جسے ختم کرنا اس جنگ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے۔
پاکستان کے دورے پر آئے افغانستان اور پاکستان کے لیے خصوصی امریکی ایلچی اور امریکی مسلح افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیکل مولن کے ساتھ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انہوں نے ان اختلافی امور اور دونوں ممالک کے مؤقف میں پائے جانے والے فرق سے امریکی اعلٰی حکام کو آگاہ کر دیا ہے۔
افغانستان کے بعد دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچنے والے ان اعلٰی امریکی سول اور فوجی افسران نے دفتر خارجہ میں شاہ محمود قریشی سے ایک گھنٹے سے زائد مذاکرات کیے۔
رچرڈ ہالبروک نے زیادہ سوالات نہیں پوچھنے دیے اور کہا کہ ان کو ایک اور اہم میٹنگ سے دیر ہو رہی ہے۔ یاد رہے کہ ان کو امریکی سفارتخانے میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف سے ملاقات کرنی ہے۔
اس بات چیت کی تفصیل مشترکہ پریس کانفرنس میں بتاتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہا کہ یہ بات چیت بہت خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔
’میں نے امریکی نمائندوں کو بتایا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان بہت مثبت تعلقات ہیں لیکن کچھ اختلافی امور بھی ہیں۔ جن کی آج میں نے نشاندہی کی ہے اور جب اگلے ماہ واشنگٹن میں ہم ملیں گے تو ان پر مزید گفتگو ہو گی۔‘
'ہم نہ بلینک چیک لیں گے اور نہ ہی بلینک چیک دیں گے۔‘
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اس جنگ میں شریک رہنے کے اصول بہت واضح ہیں اور ان کی بنیاد مشترکہ مفادات اور عزت و احترام کے رشتے پر مبنی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ہم نے ڈرونز کے بارے میں بھی بات کی ہے اور میں واضح کرنا چاہتا ہوں کے اس نکتے پر ہمارے درمیان خلیج موجود ہے۔ ہم اس خلیج کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اس بارے میں بھی مزید بات چیت جاری رہے گی۔‘
وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان امریکہ کا اہم اتحادی ہے اور یہ تعلق برقرار رکھنے کا خواہشمند ہے۔’لیکن کسی بھی تعلق کے برقرار رہنے اور پروان چڑھنے میں سب سے اہم چیز باہمی اعتماد ہے۔ دو طرفہ تعلقات صرف اسی صورت برقرار رہ سکتے ہیں جب عزت اور احترام کا باہمی رشتہ قائم ہو۔‘
امریکی خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان اور افغانستان کے ساتھ امریکہ بات چیت کر رہا ہے اور اسی سلسلے میں ایک سہ فریقی کانفرنس اگلے ماہ واشنگٹن میں منعقد کی جائیگی جس میں تینوں ملکوں کی سول اور فوجی قیادت شریک ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ معاشی اور سکیورٹی مسائل سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی بھرپور مدد اور تعاون کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
’اسی سلسلے میں امریکہ فرینڈز آف پاکستان کے اسی ماہ کے وسط میں ہونے والے اجلاس میں معقول امداد کا اعلان کرے گا اور ہم توقع رکھتا ہے کہ اس فورم میں شامل دیگر ممالک بھی ایسا ہی کریں گے۔‘
رچرڈ ہالبروک کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے مفادات، خطرات اور دشمن اور چیلنـجز مشترکہ ہیں اور انہیں مل جل کر ہی انکا مقابلہ کرنا ہو گا۔
امریکی مسلح افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن نے کہا کہ امریکہ پاکستانی افواج کی دہشت گردوں کے خلاف استعداد کار بڑھانے کے لیے تربیت اور سازوسامان کے ذریعے مدد کرے گا۔
’ہم نے پاکستانی فوجی سربراہ سے بھی تفیصلی بات چیت کی ہے اور اس گفتگو کا مقصد ہی پاکستانی سول اور ملٹری قیادت اور عوام کی توقعات کو سمجھنا اور اپنے مؤقف کو ان تک پہنچانا ہے۔ یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔‘
اس سوال پر کہ امریکی قیادت ان جاسوس طیاروں کا کنٹرول پاکستان کے سپرد کیوں نہیں کر دیتا جن سے ہونے والے حملے دونوں ملکوں کے درمیان مسائل کا باعث بن رہے ہیں، ایڈمرل مولن نے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے اور امریکی فوج نے بغاوت سے نمٹنے کے لیے اپنی فوج کو جدید ہتھیاروں اور تربیت سے لیس کرنے کے لیے بہت محنت اور تربیت صرف کی ہے اور یہ آسان کام نہیں ہے۔
وزیرخارجہ سے ملاقات کے بعد امریکی وفد کے ارکان امریکی سفارخانے چلے گئے جہاں انہوں نے مسلم لیگی وفد کو سابق وزریر اعظم میاں نواز شریف کے ہمراہ مدعو کر رکھا تھا۔ نواز شریف نے اس ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ انہوں نے رچرڈ ہا لبروک سے گفتگو میں ڈرون حملے بند کئے جانے کے اپنے سابقہ مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔
اعلیٰ سول اور فوجی حکام پر مشتمل اس امریکی وفد نے بعد ازاں ایوان وزیراعظم میں، یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی جس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے امریکی حکام کے ساتھ اس توقع کا اظہار کیا کہ اوباما انتظامیہ افغانستان اور پاکستان کے بارے میں نئی امریکی پالیسی پر پائی جانے والی پاکستانی تشویش کو دور کرنے کی کوشش کرے گی۔






















